30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو بھولی ہوئی باتیں یا د دلائیں ،
|
کما یشکوبعد ذلك العلامۃ الشامی حیث یقول یحصل عند ذلك غالبًا من المنکرات الکثیرۃ کایقاد الشموع والقنادیل التی لاتوجد فی الافراح وکدق الطبول و الغناء بالاصوات الحسان واجتماع النساء والمردان واخذ الاجرۃ علی الذکر و قراۃ القراٰن وغیر ذلك مما ھو مشاھد فی ھذا الزمان وماکان کذٰلك فلا شك فی حرمتہ [1]۔ |
جیسا کہ اس کے بعد علامہ شامی یُوں شکایت فرماتے ہیں: زیادہ تر اس وقت بہت سی بُری باتیں ہوتی ہیں جیسے بیش قیمت شمعیں او رقندیلیں روشن کرنا جو شادیوں میں بھی نہیں ملتیں، ایسے ہی طبل بجانا، خوش آوازی سے گیت سنانا، عورتوں امردوں کاجمع ہونا، ذکر اور تلاوتِ قرآن پر اُجرت لینا، اور ان کے علاوہ ساری باتیں جو اس زمانے میں دیکھنے میں آتی ہیں، جس کام کا یہ حال ہو اس کے حرام ہونے میں کیا شك ہے ! (ت) |
معہذا خاص اس قصد سے یعنی تعزیت لینے کے لیے بیٹھنا بھی اگر چہ رخصت ہے مگر افضل نہ کرنا ہے
|
کما فی الھندیۃ من معراج الدرایۃ عن خزانۃ الفتاوٰی الجلوس للمصیبت ثلاثٹ ایام رخصۃ و ترکہ احسن [2] ۔ |
جیسا کہ ہندیہ میں معراج الدرایہ سے، اس میں خزانۃ الفتاوٰی سے منقول ہے موت کے سبب تین دن بیٹھنے کی اجازت ہے اور اس کا ترك بہتر ہے ۔(ت) |
لہذا بہت علمائے متاخرین نے میّت کے گھر اس ہجوم واجتماع کو پسند نہ فرمایا اور یہی مناسب جانا کہ لوگ دفن کر کے متفرق ہوجائیں اولیائے میّت اپنے کام میں مشغول ہوں اور لو گ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ،
|
کما فی مراقی الفلاح للعلامۃ الشرنبلالی قال کثیر من متاخری ائمتنا رحمہم اﷲ تعالٰی یکرہ الاجتماع عند صاحب المصبیۃ حتی یاتی الیہ من یعزی بل اذا رجح الناس من الدفن فلیتفرقو اویشتغلوا |
جیساکہ علامہ شرنبلالی کی مراقی الفلاح میں ہے کہ ہمارے بہت سے ائمہ متاخرین رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ میّت والے کے یہاں اس مقصد سے اجتماع کہ اس کے یہاں تعزیہت کرنے والے آئیں مکروہ ہے۔ لوگ جب دفن سے واپس ہوں تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع