30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وسلم یعنی در مسجد برائے عزائے ایشاں [1] ( یعنی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مسجد میں ان حضرات کی تعزیت لینے کے لئے تشریف فرما ہوئے ۔ت)
پس اب فعل مذکور فی السوال میں کوئی امر ایسا نہ رہا جس کا ثبوت حدیث و فقہ سے نہ ہو ، صرف اتنی بات باقی ہے کہ بعد دفن کے پلٹ کر سیدھے اس مکان پر جاتے ہیں اور بعد فاتحہ اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں، اس کے لئے کسی ثبوتِ خاص کی حاجت نہیں کہ جب تعزیت و ایصال ثواب و دعا محمود ٹھہری اور افضل یہ قرار پایا کہ دفن کے بعد ہو اور پہلے دن ہو اور قبر سے پلٹ کر ہو ، اور اس کے مکانِ میّت پر جانا بھی جائز ہو، تو ا سی وقت جاکر ادائے تعزیت میں کیا مضائقہ ہے۔ ہاں اگر سرے سے اس کے مکان پر جانا ہی روا نہ ہوتا تو بیشك محلِ منع ہوتا۔ اور جب ایسانہیں تو اس کی کیا ضرورت ہے کہ اپنے اپنے گھر جاکر پھر وہاں جائیں، کوئی دلیل شرعی اس پر قائم نہیں بلکہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت کہ جب ایك صحابی کو دفن کر کے پلٹے اور صحابہ کرام حاضر رکابِ سعادت تھے میّت مرحوم کی زوجہ مطہرہ کا بھیجا ہوا آدمی ملا، حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کے مکان پر تشریف لے گئے ،
|
فقد اخرج الامام احمد بسند صحیح و ابوداؤد عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن رجل من الانصار قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی جنازۃ فلما رجع استقبلہ داعی امرأتہ فجاء وجیء بالطعام [2] الحدیث ملخصا۔ |
امام احمد نے بسند صحیح اور ابوداؤد نے عاصم بن کلیب سے انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے ایك انصاری صحابی سے روایت کی وہ فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ایك جنازہ میں گئے جب سرکار واپس ہوئے تو مرنے والے کی عورت کا داعی سامنے ایا حضور اس کے گھر تشریف لے گئے اور کھانا حاضر کیا گیا۔ الحدیث بہ تلخیص (ت) |
اگر دفن سے پلٹ کر مکانِ میّت
پر جانا منع ہوتا تو حضور کیوں قبول فرماتے، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
یہ تو اصل فعل کا حکم تھا، مگر ہو ا یہ کہ جُہّال نے اس رسمِ شرعی میں بہت رسوم
جاہلیت واختراعات بیہودہ کو دخل دیا، مثلًا گانے، باجے شمعیں، قندیلیں، عمدہ عمدہ
فرش، طرح طرح کے کھانے، ریا وناموری کے اسباب، میّت کی تعریف میں حد سے غلو، تعزیت
کے وقت اُلٹی وہ باتیں جو غم والم کو زیادہ کریں اور میّت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع