30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جلس یجلس الیہ نفر من اصحابہ فیھم رجل لہ ابن صغیر ففقدہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال مالی لا راٰی فلا نا قالو یا رسول اﷲ بنیہ الذی رأیتہ ھلك فلقیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فسألہ عن بنیہ فاخبرہ انہ ھلك فعزاہ علیہ[1] الحدیث اھ ملخصا ۔ |
نسائی نے معاویہ بن قرہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب تشریف فرما ہوتے تو ان کے پاس ان کے صحابہ میں سے چند حضرات بیٹھتے، ان میں ایك صاحب تھے جن کا نام ایك کم سن فرزند تھا ایك روز مجلس میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، ارشاد فرمایا: کیا بات ہے فلاں نظر نہیں آرہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! اس کا چھوٹا سا لڑکا جسے حضور نے دیکھا تھا فوت ہوگیا تو ا س سے بنی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ملاقات کرکے اس کے فرزند کے بارے میں پوچھا، اس نے موت کی خبر سنائی، حضور نے اس پر اس کی تعزیت فرمائی، الحدیث ، اھ بتلخیص (ت) |
اور مولوی اسحٰق کا قول پہلے مذکور ہوا کہ رفتن برائے تعزیت میّت جائز ست ( تعزیت میّت کے لئے جانا جائز ہے ۔ت) اور تین روز تك اولیائے میّت کو بھی رخصت واجازت ہے کہ بے ارتکاب مکتات واتباع رسوم کفار اپنے مکان میں تعزیت کے لئے بیٹھیں تا کہ لوگ ان کے پاس آئیں اور رسمِ تعزیت بجالائیں،
|
فی الدرالمختار لا بأسع بتعزیۃ اھلہ و ترغیبھم فی الصبر وباتخاذ طعام لھم و بالجلوس لھا فی غیر مسجد ثلثۃ ایام و اولھا افضلھا [2] الخ |
درمختار میں ہے : اس میں حرج نہیں کہ اہل میّت کو تعزیت کریں اور صبر کی ترغیب دیں اور ان کے لئے کھانا پکوائیں اور تعزیت کے لئے اگر اہل میّت مسجد کے علاوہ کسی جگہ بیٹھیں تو ا س میں بھی حرج نہیں، اور ایام تعزیت میں پہلا دن افضل ہے الخ (ت) |
حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح میں ہے :
|
قال فی شرح السیدو لا باس بالجلوس لھا الٰی ثلثۃ ایام من غیرا رتکاب محظور من فرش البسط والاطعمۃ من |
شرح سیّد میں ہے: تین دن تك تعزیت کے لئے بیٹھنے میں حرج نہیں مگر کسی ممنوع کام کا ارتکاب نہ ہو جیسے مکلف فرس بچھانا، اہل میّت کی جانب سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع