30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور میاں اسحٰق صاحب دہلوی کو تسلیم ہے کہ ہاتھ اٹھانا مطلقًا دعا کے آداب سے ہے۔ توا س وقت بھی کچھ مضائقہ نہیں رکھتا ۔
اربعین میں ہے :
|
مسئلہ ٣٢: درتعزیت میّت رفتن وہردودست برداشتہ سورہ فاتحہ خواند جائزاست یا نہ؟ جواب: رفتن برائے تعزیت میّت جائز است و دعائے مغفرت برائے اونمودن مستحب است وہمچنین دعائے خیر برئے اہل میّت اما دست برداشتن برائے دعا وقت تعزیت ظاہرًا جواز است زیرا کہ درحدیث شریف رفع یدین در دعا مطلقًا ثابت شدہ پس دریں وقت ہم مضائقہ نہ دار دلیکن تخصیص آں برائے دعا وقت تعزیت ماثور نیست [1]انتہی ملخصا۔ |
مسئلہ ٣٢: میّت کی تعزیت میں جانا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر سورہ فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب : میّت کی تعزیت کے لئے جانا جائز ہے اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرنا مستحب ہے اسی طرح اہل میّت کے لئے دعائے خیر کرنابھی مستحب ہے۔ رہا تعزیت کے وقت کی دعامیں ہاتھ اٹھانا، تو ظاہر یہ ہے کہ جائز ہے ، اس لئے کہ حدیث شریف کے اندر دعامیں ہاتھ اٹھانا مطلقًا ثابت ہے تو اس وقت بھی مضائقہ نہیں مگر خاص وقت تعزیت کی دعا میں ہاتھ اٹھا نا حدیث میں منقول نہیں ہے۔ انتہی ملخصًا (ت) |
اور تعزیت بعد دفن کے اولٰی ہے :
|
فی الجوھرۃ ثم ردالمحتار ھی بعد الدفن افضل منھاقبلہ[2] الخ وبمثلہ ذکر الطحطاوی فی حاشیۃ مراقی الفلاح ۔ |
جوہرہ پھر ردالمحتار میں ہے: قبل دفن تعزیت سے بہتر بعد دفن تعزیت ہے الخ اسی کے مثل سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں ذکر کیا ہے ۔(ت) |
اور قبر کے پاس مکروہ ہے ،
|
فی الدرالمختار وتکرہ التعزیۃ ثانیا و عندالقبر [3]۔ |
درمختار میں ہے : دوسری بار تعزیت کرنا یوں ہی قبر کے پاس تعزیت کرنا مکروہ ہے ۔(ت) |
حلیہ میں ہے :
|
یشھدلہ ما اخرج ابن شاھین |
اس پر شاہد اثر ہے جو ابن شاہین نے ابراہیم نخعی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع