30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور پسماندوں کو تسکین وتعزیت سب باتیں شرعًا محمود و روا۔
|
فقد روی الترمذی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن عزی مصابا فلہ مثل الجرہ [1] و ایضا عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من عزی ثکلے کسی بردا فی الجنۃ [2]وابن ماجۃ والبیھقی باسناد حسن قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مامن مومن یعزی اخاہ بمصیبۃ الاکساہ اﷲ تعالٰی من حلل الکرامۃ یوم القٰیمۃ ٣ [3] ۔
|
ترمذی کی روایت نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے تو اسے بھی اسی کی طرح اجر ملے۔ امام ترمذی ہی کی دوسری روایت حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ ہے: جو مرگِ فرزندکی مصیبت زدہ کسی عورت کو تعزیت کرے اسے جنت میں عمدہ چادر پہنائی جائے، ابن ماجہ او ربہیقی نے بسند حسن روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو مومن بھی کسی مصیبت پر اپنے بھائی کی تعزیت کرے خدا تعالٰی اسے قیامت کے دن عزت و کرامت کا لباس پہنائے گا (ت) |
علامہ ابن الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
|
التعزیۃ مستحب قد ندب الیہ الشارع فی غیرماحدیث ومن ذلك ماروی ابن ماجۃ و البیھقی باسناد حسن الٰی ان قال وحسن ان یقرن مع الدعاء لہ بجزیل الثواب علی مصابہ لمیّتہ بالرحمۃ والمغفرۃ و قد نبھنا الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ھذا المقصود فی غیرما حدیث [4] الخ اھ ملخصا۔ |
تعزیت مستحب ہے شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں اس کی ترغیب دی ہے، ان میں سے ایك حدیث ہو ہے جسے ابن ماجہ وبہیقی نے بسندِ حسن روایت کیا (حدیث مذکور پیش کرنے کے بعد فرمایا) او ر اچھا یہ ہے کہ مصیبت زدہ کے لئے عظیم ثواب کی دعا کرنے کے ساتھ اس کے مردے کیلئے رحمت ومغفرت کی دعا بھی کرے۔ اس خاص مقصد پر بھی شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں ہمیں متنبہ اور خبردار کیا ہے الخ اھ تلخیص (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع