30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی حاشیۃ المراقی ای بدون لحد ولا توسعۃ [1] اھ وفی الایضاح ومراقی الفلاح فی خرفۃ ، والقاہ فی حفرۃ من غیر وضع کالجیفۃ مراعاۃ لحق القرابۃ او دفع القریب الی اھل ملتہ، ویتبع جنازتہ من بعید، وفیہ اشارۃ الی ان المرتد لایمکن منہ احد لغسلہ لان لاملۃ لہ فیلقی کجیفۃ کلب فی حفرۃ ٢[2] اھ مختصرا وفی ردالمحتار قولہ یغسل المسلم ای جواز لا ن من شروط وجوب الغسل کون المیّت مسلما [3] الخ۔ |
حفیرۃ ( تنگ کڑھا) ہے۔ طحطاوی نے حاشیہ مراق الفلاح میں کہا یعنی لحداور کشادگی کے بغیر اھ ایضاح اور مراقی الفلاح میں ہے اسے کسی ناپاك کپڑے کی طرح دھوئے اور کسی معمولی کپڑے میں کفن دے کر کسی گڑھے میں مردارکی طرح ڈال دے تاکہ حق قرابت کی رعایت ہوجائے یا قرابت دار اس کے اہل مذہب کو دے دے اور خود دور سے جنازے، کے پیچھے چلا جائے، او راس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مرتد کو غسل کے لئے کسی کو نہ دے اس لئے کہ اس سے کوئی رشتہ وتعلق نہیں تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دے گا اھ مختصرًا___ردالمحتار میں ہے مسلمان کا کافر اصلی قرابت دار کو غسل دینا صرف جوازًا ہے اس لئے کہ وجوب غسل کی شرطوں میں یہ ہے کہ میّت مسلم ہو الخ (ت) |
کشف الغطاء میں جامع صغیر امام صدر شہید سے ہے :
|
اگر قریب نباشد دفع کردہ شود باہل دین او تاہر چہ خواہند بوے کنند [4]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
اگر کوئی مسلمان قرابت دار نہ ہو تو اس کے اہل مذہب کو دے دیا جائے گا کہ اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ١١٠: لوگوں میں رسل ہے کہ میّت کو دفن کرکے اس کے مکان میں آتے ہیں او رکہتے ہیں فاتحہ پڑھ لو، پھر کچھ پڑھتے ہیں او ر ہاتھ اٹھاتے ہیں، یہ فعل کیسا ہے ؟ بینو توجروا
الجواب :
اصل اس فعل میں کوئی حرج نہیں کہ ایصال ثواب سے اموات کی اعانت اور ان کےلئے دعائے مغفرت
[1] حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل السلطان احق بصلٰوۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٣٠
[2] مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل السلطان احق بصلٰوۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٣٠
[3] ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١/ ٥٩٧
[4] کشف الغطاء فصل دفنِ میّت مطبع احمدی دہلی ص ٤٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع