30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اس کے مذہب وملت والوں کو دے دیا جائے کہ جو چاہیں کریں، او راگر کفار میں بھی کوئی نہ ملے تو جیفہ سگ کی طرح دفعِ عفونت کے لیے کسی گڑھے میں دبادیں۔ تفصیل مسئلہ یہ ہے کہ کافر دو قسم ہے : اصلی ومرتد۔ اصلی وہ کہ ابتداء سے کافر ہو اور مرتد وہ کہ بعد اسلام کافر ہوا یا با وصف دعوی اسلام عقائد کفر رکھے : جیسے آج کل نیچری مرتد کے لیے تو اصلًا نہ غسل، نہ کفن، نہ دفن، نہ مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافر کو دیا جائے اگر چہ وہ اسی کے مذہب کا ہو، اگر چہ اس کا باپ یا بیٹا ہو، بلکہ اس کا علاج وہی مرادار کتے کی طرح دبادینا ہے، اور کافر اصلی سے اگر مسلمان کو قرابت نہیں توا س کے بھی کسی کام میں شریك نہ ہو بلکہ چھوڑ دیا جائے کہ اس کا عزیز قریب یا مذہب والے جو چاہے کریں، او ر وہ بھی نہ ہوں تو علاج مثل علاج مرتد ہے، اور اگر مسلمان کو اس سے قرابت قریبہ ہے تاہم جب کوئی قریب کا فر موجود ہو بہتر یہی ہے کہ اس کی تجہیز میں شرکت نہ کرے، ہاں ادائے حقِ قرابت کے لئے اگر ا سکے جنازہ کے ساتھ جنازہ سے دور دور چلاجائے تو مضائقہ نہیں، اور اگر مسلمان ہی قریب ہے کوئی کافر قرابت دار نہیں جب بھی مسلمان پر اس کی تجہیز و تکفین ضروری نہیں، اگر اس کے ہم مذہب کافروں کو دے دے یا بے غسل وکفن کسی گڑھے میں پھنکوادے ، جائز ہے۔ او ر اگر بلحاظ قرابت غسل و کفن ودفن کرے تو بھی اجازت ہے مگر کسی کام میں رعایت طریقہ مسنونہ نہ کرے، نجاست دھونے کی طرح پانی بہادے، کسی چیتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں دبادے۔ رب انی اعوذبك من الکفر والکافرین ( اے رب ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر اور کافروں سے ۔ت )درمختار میں ہے :
|
( یغسل المسلم ویکفن ویدفن قریبہ) کخالہ ( الکافر الاصلی) اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب ( عند الاحتیاج) فلولہ قریب فالا ولی ترکہ لھم من غیر مراعاۃ السنۃ) فیغسلہ غسل الثواب النجس ویلفہ فی خرقہ ویلقیہ فی حفرۃ [1] اھ اقول ولفظ البحر حفیرۃ ٢[2] اھ قال الطحطاوی |
(مسلمان اپنے قرابت دار) جیسے ماموں (کافر اصلی کو) غسل وکفن دفن کرے،رہا مرتد تو اسے کسی گڑھے میں کتے کی طرح دبادے ( ضرورت کے وقت) تو اگر اس کا کوئی اور قرابت دار ہے توبہتر یہ ہے کہ انھیں دے دے (بغیر رعایت سنت کے غسل اور کفن دفن کرے) توکسی ناپاك کپڑے کی طرح دھوئے او رکسی چیتھڑے میں لپیٹ کر کسی گھڑے میں ڈال دیں اھ اقول بحر کی عبارت میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع