دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 9 | فتاوی رضویہ ۹

book_icon
فتاوی رضویہ ۹

ہونے کے بعد بھی ناجائز فرمایا ہے نہ کہ صرف غیر اولٰی۔ یہ دیکھ کر وہ معنی بنانا تحریف ہے۔ وہیں عبارات امام محمد حلبی میں یہ دیکھنا کہ اپنے عزیز یا کسی مزار کے قریب میں دفن کا قصد وہ ضرورت نہیں جس کے باعث ابتداء ایك قبر میں دو کا دفن مباح ہوجائے، صاف ثابت ہوا کہ ایسا کرنا حلال نہیں، پھر اسے غیر اولٰی پر ڈھالنا دوسری تحریف نیز اسی عبارت میں ارشاد ہو ا تھا کہ پھر ان وجوہ سے اگلی قبر کھودکر دوسری کادفن کرنا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔ اس سے آنکھ بند کرکے وہ گھڑت تیسری تحریف ہے۔پھر وہیں یہ دیکھنا کہ اس میں مسلمان میّت کی بیحرمتی ہے اور اس پر وہ تراش چوتھی تحریف ہے۔ وہیں یہ دیکھنا کہ اس میں مسلمان میّت کی ہڈی علیحدہ کرنا ہے اور اس پر وہ اختراع پانچویں تحریف ہے ۔ پھر اپنے اس معنی تراشیدہ کو فقہا ء کی طرف نسبت کرنا صریح افترا ہے۔ طرفہ یہ ہے کہ عبارتِ شامی نقل کی جس میں امام زیلعی سے ہے کہ میّت خاك ہوجائے تو اس کے بعد دوسرے کو اس کی قبر میں دفن کردینا جائز ہے، صاف ثابت ہوا کہ قبل اس کے ناجائز ہے، پھر اس اپنے رَد کو اپنی سند بنانا کیسی کھلی سفاہت ہے۔ فقہائے کرام سے نقل کیا کہ کہنہ قبور میں دوسرے میّت کو دفن کرنا درست ہے جدید کھود کر اُس میں دوسرے کو دفن کرنا درست نہیں، پھر کہنہ وجدید ایجاد بندہ ہے جس کے معنی یہ ٹھہرا سکے کہ دوچار مہینے یاسال دوسال گزر سکے تو اب جدید قبر ہی نہ رہی، مسلمان کی ہڈیاں کھودنا حلال ہوگیا، حالانکہ خودا س کی عبارت نقل کردہ میں ارشاد فقہاء یہ ہے کہ میّت خاك ہوجائے تو جائز ہے ورنہ نہیں، اب کہنہ وجدید کے یہ معنی متعین ہوگئے اس پر اسے گورستان کی نسبت جسے سائل نے صاف لکھا تھا کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مُردوں کی ہڈیا نکلتی ہیں اور اس پر گورستان صاف وپاك اس کے متصل موجود ہے یہ حکم لگا نہ کہ دفن کرنا دوسرے گورستان میں درست ہے ، صریح تنا قض، فقہا ئے کرام نے بحال ضرورت اجازت دی خود اسی فتوٰی میں کہا مدار ضرورت اور عدمِ ضرورت پر ہے۔ پھر بلا ضرورت صرف غیر اولٰی رکھنا کیسی شدید سفاہت ہے، غیر اولٰی کی اجازت کو ضرورت کیا درکار، وہ بلاضرورت بھی جائز ہوتا ہے، ہاں ناجائز بات کی اجازت کو ضرورت کی ضرورت ہوتی ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات( ضرورتیں منع کردہ چیزوں کو جائز کردیتی ہیں ۔ت) اس فتوے کے کاتب کے قلم سے چھوٹی آٹھ سطریں ہیں ان میں یہ بارہ ١٢ کمالات بنگاہِ اولیں حاضر ہیں، تحریفیں، خیانتیں، افتراء، تناقض، سفاہتیں، معاذاﷲ کہ شرع ایسوں کو قابل افتا ٹھہرائے، یہ سب درکنار علمائے حرمین شریفین نے دیوبند کے پیشواؤں پر نام بنام حکمِ ارتداد دیا اور فرمایا:

من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ١ [1]۔

جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کرا ن کے کفر میں شك کرے وہ بھی مسلمان نہیں۔

 


 

 



[1] دُرمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ١/ ٣٥٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن