30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ہمارے علماء نے متعدد کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی۔ اب اوہام جہال مدعیان علم وکمال کے ازالہ کو چند نصوص ذکر کریں، امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہام رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
|
لایدفن ا ثنان فی قبرواحد الا لضرورۃ ولایحفر قبر لدفن اٰخر الا ان بلی الاول فلم یبق لہ عظم الا ان لایوجد بد فیضم عظام الاول و یجعل بینھما حاجز من تراب [1]۔ |
یعنی بلامجبوری ایك قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، نہ بلامجبوری دوسرے کے دفن کے لئے قبر کھودنے کی اجازت، مگر جبکہ پہلا بالکل خاك ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈی تك نہ رہی، ہاں مجبوری ہو تو ہڈیاں ایك طرف جمع کرکے انھیں اور اس میّت میں مٹی کی آڑ قائم کردیں ۔(ت) |
تارتار خانیہ و امدادالفتاح میں ہے :
|
اذا صار المیّت ترابانی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ لان الحرمۃ باقیۃ وان جمعوا عظامہ فی ناحیۃ ثم دفن غیرہ فیہ تبرکان بالجیران الصالحین ویوجد موضع فارغ یکرہ ذلك ٢ [2] ۔ |
یعنی اگر میّت بالکل خاك ہوجائے جب بھی اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا ممنوع ہے کہ حرمت اب بھی باقی ہے، اور اگر مزاراتِ صالحین کے قرب کی برکت حاصل کرنے کی غرض سے میّت کی ہڈیاں ایك کنارے جمع کردیں تو اب بھی ممنوع ہے جبکہ فارغ جگہ دفن کو مل سکتی ہے ۔(ت) |
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج رحمہ اﷲ تعالٰی حلیہ میں فرماتے ہیں :
|
یکرہ ان یدفن فی القبر الواحد اثنان الالضرورۃ وبھذا تعرف کراھۃ الدفن فی الفساقی، خصوصا ان کان فیھا میّت لم یبل، واما ما یفعلہ جھلتہ اغبیاء من الحفارین وغیر فی المقابر المسبلۃ العامۃ وغیرھا من بنش القبور التی لم یبل اربابھا |
یعنی بلا مجبوری ایك قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، اور یہیں سے ظاہر ہو ا کہ تَہ خانوں میں دفن منع ہے خصوصًا جبکہ وہاں کوئی میّت موجود ہو جو ابھی خاك نہ ہوا او ر وہ جو بعض گورکن وغیرہ جاہلان بد عقل کرتے ہیں کہ وقفی یا غیر وقفی قبرستان میں وہ قبر جس کا مردہ ہنوز خال نہ ہو کھود کر دوسرا دفن کردیتے ہیں، یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع