30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی تصرف نہ کیا جائے گا۔ مگراس میں دفن کرنا روك دیا جائے گا اور اس کے عوض دوسری زمین میں دفن کرنے لگیں، تو یہ اگریوں ہے کہ پرانا مقبرہ بالکل بھرگیا اور اس میں کہیں قبر کی جگہ نہ رہی توبے شك مناسب ہے اگر دوسری جگہ معقول وقابل قبور مسلمین مل سکے اور اگریہ بھی نہیں بلکہ قبور کے لئے جگہ موجود ہے اور پھر منع کیاجائے تو دو صورتیں ہیں اگر وہ جگہ جہاں اموات دفن ہو تے تھے کسی شخص خاص کی ملك ہے کہ اس کی اجازت سے دفن ہوتے تھے تو بلاشبہ اسے اختیار ہے کہ میّت کو نکلوادے۔ درمختار میں ہے :
|
لایخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق اٰدمی کان تکون الارض مغصوبۃ اواخذت بشفعۃ ویخیر المالك بین اخراجہ ومساواتہ بالارض ١ [1]۔ |
مٹی ڈال دینے کے بعد قبر سے مردے کو نکالا نہ جائے گا مگر کسی انسان کے حق کی وجہ سے، مثلًا زمین غصب کی ہو یا شفعہ کی وجہ سے لے گئی ہو او رمالك کو اختیار ہوگا کہ مردے کو نکال دے یا قبر زمین کے برابر کردے (ت) |
اگر وہ کسی کا مملوك نہیں بلکہ وقف ہے تو وقف میں دست اندازی کا کسی کو حق نہیں الوقف لا یملك ( وقف کسی آدمی کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(٣) یہ حرام او ر سخت توہین اموات اہل اسلام ہے۔ مقابر میں پاخانہ پھر نا حرام ہے حالاں کہ وہ اوپر ہی رہے گا اموات تك نہ پہنچے گا تو یہ صورت کیونکر حلال ہوسکتی ہے درمختار میں ہے : یکرہ بول وغائط فی المقابر ٢ [2]( قبرستان میں پیشاب اور پاخانہ مکروہ ہے ۔ت)طحطاوی و ردالمحتار میں ہے: الظاھر انھا تحریمۃ [3]( ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(٤) اس سے بھی شرعًا منع کیا جائے گا، جو لوگ دفن کے لئے جائیں انھیں ایذا ہوگی، جو فاتحہ کو جائیں انھیں ایذا ہوگی، او ران سے قطع نظر کیجئے ان کی ایذا تو اتنی دیر کے لئے ہوگی جب تك وہاں رہیں گے اموات کے لیے یہ آٹھ پہر کی ایذا ہوگی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ان المیّت یتأذی مما یتأذی منہ الحی ٤ [4] ۔ |
جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع