30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
وان زاد الی مقدار قامۃ فھو احسن کما فی الذخیرۃ وھذا احدالعمق والمقصود منہ المبالغۃ فی منع الرائحۃ ونبش السباع [1] ۔ |
اگر قد برابر زیادہ کیا تو زیادہ اچھا ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اور یہ گہرائی کی حد ہے، اس کا مقصد بُو روکنے اور درندوں کے اکھاڑنے سے بچانے میں مبالغہ ہے ۔(ت) |
بلکہ ہزاروں لاکھوں آدمی مقابر کے قریب بستے ہیں بلکہ ہزاروں وہ ہیں جن کا پیشہ ہی تکیہ داری یا قبور کی مجاورت ہے ان کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں آتا، جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(٢) تبدیلی سے اگر یہ قبرستان کو کوئی اور مکان کسی کے رہنے بسنے کا یا مسجد یا مدرسہ لیا جائے اور قبور کے لئے دوسری زمین دے دی جائے تو یہ قطعی حرام اور بوجوہ حرام کہ وقف میں تصرف بیجا ہے اور وقف نہ بھی ہو تو قبور مسلمین کی توہین وبیحرمتی ہے۔ قبر پر چلنا پھرنا، پاؤں رکھنا حرام ہے چہ جائکہ انھیں پامالی کے لیے مقرر کرلینا ____ اس کی تفصیل ہمارے رسالہ اھلاك الوھابین فی توھین قبور المسلمین میں ہے۔ عالمگیری میں ہے :
|
لا یجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ [2]۔ |
وقف کی ہیأت بدلنا جائز نہیں ۔(ت) |
ہدایہ میں ہے :
|
فی غایۃ القبح ان یقبر فیہ الموتٰی سنۃ ویزرع سنۃ [3]۔ |
بہت زیادہ بُرا یہ ہے کہ ا س میں ایك سال مردے دفن ہوں اور ایك سال کھیتی ہو ۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
انھم نصوا علی ان المرور فی سکۃ حادثۃ فیھا حرام [4]۔ |
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نَوپیدا راستے میں چلنا حرام ہے ۔(ت) |
اسی طرح طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ مقبرہ بدستور رکھا جائیے گام اس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع