30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناجائز و غصب ہے یا نہیں اور اس میں مسلمان مُردوں کا دفن ہونا غیر مذہب والوں کو فیس ادا کرکے جائز ہے یا نا جائز ؟ مکروہ ہے یا حرام ؟ اور مُردے دفن کرنے والا مسلمان داخلِ معصیت ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
چونگی کا روپیہ درکنار، اگر کوئی مسلمان ہی اپنے خاص مملوك بملك حلال وطیب سے زمین اس طریقہ جبر پر خریدے وہ قطعًا حرام ہوگی اور زمین حکمًا مغصوب، او راس میں بروجہ مذکور مُردوں کا دفن کرنا حرام و معصیت، یہاں تك کہ بعد دفن مُردہ کا قبر سے نکالنا حرام مگر اسکے باوجود ایسی جگہ قبر کھود کر دوسری جگہ دفن کرنا چاہئے فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
|
لاینبغی اخراج المیّت من القبر بعد ما دفن الااذا کانت الارض مغصوبۃ او اخذت بشفعۃ۔ [1] واﷲ تعالٰی اعلم |
بعد دفن میّت کو قبر سے نکالنا چاہئے مگر جب زمیں غصب کی ہوئی یا حقِ شفعہ سے دوسرے نے لے لی ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ۱۰۵ تا ۱۰۹ : از فتحپور ہسورہ محلہ جری ٹولہ مرسلہ محمود علی صاحب اہلمد کلکٹری ٧ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
(١) قبرستان باشندگانِ قر ب وجوار کے لئے مضر صحت ہوسکتا ہے یا نہیں؟
(٢) تبدیلی قبرستان بلاعذرِ شرعی جائز ہے یا نہیں؟
(٣) جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس میں پہلے غلیظ دفن ہورہا ہے جاری کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(٤) جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس کے قرب میں اب غلیظ دفن ہورہا ہے جائز ہے یا نہیں؟
(٥) مُردہ کو کس طرح قبر میں دفن کرنا چاہئے؟ جواب بحوالہ کتب معتبرہ مرحمت ہو۔
الجواب:
(١) شریعتِ مطہرہ نے قبر کا گہرا ہونا اسی واسط رکھا ہے کہ احیاء کی صحت کر ضرر نہ پہنچے درمختار میں ہے:
|
حفر قبرہ مقدار نصف قامۃ فان زاد فحسن ٢ [2] ۔ |
میّت کی قبر نصف قد کے برابر کھودی جائے ، اگر زیادہ ہو تو اچھا ہے ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع