30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان وقف حوانیت الاسواق یجوزان کانت الارض باجارۃ فی ایدی الذین بنوھا لایخرجھم السلطان عنھا' من قبل انا رأیناھا فی ایدی اصحاب البناء توارثوھا وتقسم بینھم لایتعرض لھم السلطان فیھا ولایز عجھم وانما لہ غلۃ یا خذھا منھم وتداولھا خلف عن سلف ومضی علیھا الدھو روھی فی ایدیھم یتبا یعونھا ویوجرونھا وتجوزفیھا وصایا ھم ویہدمون بنائھا ویعیدونہ ویبنون غیرہ فذلك الوقف فیھا جائز انتہی واقرہ فی الفتح وقد علمت وجھہ وھو بقاء التابید [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
کہ دکانوں کاوقف جائزہے اگر زمین اجارہ کے ذریعہ ان لوگوں کے قبضے میں ہو کہ سلطان ان کو اس سے نہ نکالے، اس لیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعمیر کرنے والوں کے ہاتھ میں رہتی ہیں ان کے درمیان ان میں وراثت اور تقسیم جاری ہوتی ہے سلطان ان سے کوئی تعرض نہیں کرتا۔ نہ ہی ان کو پریشا ن کرتا ہے بس اس کے لیے کچھ مقررہ آمدنی ہوتی ہے جو ان سے وصول کرتا ہے۔ یہ دستور پشت ہا پشت سے چلا آرہا ہے اور یہ ان کے ہاتھ میں اُس طرح ہیں کہ یہ ان کی خرید وفروخت اور اجارہ پر دینے کا تصرف کرتے رہتے ہیں، ان کی وصیتیں ان میں نافذ ہوتی ہیں ، عمارت گراتے بناتے رہتے ہیں،تو اسی طرح ان کا وقف بھی جائز ہوگا۔ ( عبارت ختم ہوئی) اسے فتح القدیر میں بھی برقرار رکھا ہے۔ اور اس کی وجہ ، جیسا کہ معلوم ہوا وہ بقائے تابید ہے____ او ر خدائے برتر خوب جاننے والا ہے ۔ ت ) |
مسئلہ ١٠٤: از گور کھپور ١٢ شوال۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میونسپلٹی مسلمانوں سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر کوئی امر مانع ہو تو اس قطعہ زمین میں دفن کرو جو اس کام کے لئے میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن ان مُردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہیں ہوسکتی ایك فیس مقررہ لے گی، او رخام وپختہ میں فرق ہوگا۔ اور زمین خریدنے کا قاعدہ یہ ہے کہ گو بیچنے والا راضی نہ ہو، بیچنا نہ چاہتا ہو، یہ کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو مگر اس کی پروا نہیں کی جائے گی نہ وہ راضی کیا جائیگا بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقررہ قیمت ا س کو دے دی جائے گی او ر اس زمین پر مالکانہ قبضہ کر لیا جائے گا۔ ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے اس طرح زمین کا معاوضہ جبر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا شرعًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع