30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جوامام نسفی نے بحرالکلام میں ذکر فرمائی کہ مسلمان پر معاذاﷲ عذابِ قبر اگر ہو تا ہے تو صرف جمعہ تك ہوتا ہے شبِ جمعہ آتے ہی اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر عود نہیں کرتا۔ امام سیوطی و علامہ علی قاری کو اگر چہ اس روایت میں توقف ہے مگر عقلًا وشرعًا امر نافع محض کو صرف احتمال کا فی ہوتا ہے۔ اگر یہ روایت مطابق واقع ہے تو جب تك معاذاﷲ اندیشہ تھا۔ ایصالِ ثواب واستنزالِ برکات ذکر وقران سے اس کی مدد کی گئی، جب جمعہ آگیا خود رحمتِ الہٰی اس کی متکفل ہولی۔ اور اگر نا مطابق ہے تو اتنے دنوں آخر مسلمان محتاج کی مدد و نفع رسانی ہی ہوئی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ ف فلینفعہ [1]۔ رواہ مسلم عن جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ |
تم میں جو اپنے بھائی مسلمان کو نفع پہنچاسکے پہنچائے، اسے مسلم نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے ۔(ت) |
بہر حال یہ کام خیر سے خالی نہیں جبکہ نیۃً یا عملًا اس کے ساتھ کوئی محذورِ شرعی نہ ہو۔ شرح الصدور شریف میں ہے:
|
عمم النسفی فی بحرالکلام فقال ان الکافر یرفع عنہ العذاب یوم الجمعۃ ولیلتھا وجمیع شھر رمضان، قال واما المسلم العاصی فانہ یعذب فی قبرہ لکن یرفع عنہ العذاب یوم الجمعۃ ولیلتھا ثم لایعود الیہ الٰی یوم القٰیمۃ وان مات یوم الجمعۃ اولیلۃ الجمعۃ یکون لہ العذاب ساعۃ واحدۃ وضغطۃ القبر کذلك ثم ینقطع عنہ العذاب ولایعود الیہ الٰی یوم القیمۃ انتھی وھذا یدل علٰی ان عصاۃ المسلمین لا یعذبون سوی جمعۃ واحدۃ وحدۃ اودونھا وانھم اذا |
امام نسفی نے بحرالکلام میں عام لگاتے ہوئے کہا کہ روز شب جمعہ اور پورے ماہ رمضان میں کافر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے او رگنہگار مسلمان کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے،مگر اس سے روز اور شب جمعہ اٹھا لیا جاتا ہے پھر قیامت تك دوبارہ عذاب نہیں ہوتا، اور اگرروزِ جمعہ یا شب جمعہ کو انتقال کیا ہے تو صرف ایك ساعت عذاب ہوتا ہے۔ قبر کے دبانے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔ پھر اس سے عذاب بند ہوجاتا ہے اور قیامت تك پھر نہیں لوٹتا۔ انتہی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ گنہگار مسلمانوں کو ایك جمعہ تك یا ا س سے بھی کم عذاب ہو گا اور جب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع