30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام مسجد بعد دفن میّت کے آلات کندیدنی گور قبر کے سر سے لے کر قبرکی پاؤں کی طرف کو ڈلواتا ہے اور اس کو موجب امن گور جانتا ہے اور یہ حدیث پیش کرتا ہے:
|
من رش الماء علی القبر و القی اٰلتہ التی حفربھا القبر امن من عذاب القبر اھ |
جس نے قبر پر پانی چھڑکا اور جس سامان سے قبر کھودی گئی تھی اسے ڈال دیا تو عذابِ قبر سے مامون ہو ا ۔(ت) |
کسی کتاب کے اندر سے یہ مسئلہ نہیں دکھاسکتے، فقط کسی کتاب کے وقایہ پرلکھا ، یا دکھاتے ہیں جوکہ خود انھوں نے یا ان کے باپ دادا نے لکھا ہوگا، منیۃ المریدین او رخزانۃ الروایات کا حوالہ دیتے ہیں مگروہ بھی غلط ہے کیو نکہ عرصہ تین سال سے چند کتب خانے تلاش کرچکے، نہ وہ کتابیں ان کو ملیں، نہ اور کسی کتاب سے اس کا شاہد پایا ، کسی اپنے باپ دادا اور کسی مولوی اخوندزادہ کا قول و فعل ثابت کرتے ہیں او ریہ رواج بھی ابھی پچاس ساٹھ سال کا ہے او رعلمائے کرام پنچاب وافغانستان کہ جو اس فعل کے مانع ہیں وہ کہتے ہیں کہ اول جملہ اس عبارت کا تو بیشك منصوص ہے مگر جملہ القائے الات کا مخترعہ ہے، ابتداء یوں ہوئی ہوگی کہ بعد دفن میّت کے آلات قبر کو بطور شمار کرنے کے سرہانے والے نے پاؤں والے کی طرف کو ( جوکہ عادۃً بعد دفن کھڑے ہوکر جانا چاہتے ہیں تو اس وقت بیلچہ گرووں معول شمار کرکے اپنا اپنا لے جاتے ہیں) دینے یا شمار کرنے کے لئے پھینك دیا ہوگا، کسی نے نادانی سے اس کا اس صورت سے ڈالنا ہی سمجھ لیا ہوگا۔ بعد کو جب نزاع ہوا ہوگا تو مروج نے عزت بچانے کے لئے یہ عبارت بنا کر حدیث کی عبارت سے مناسبت دیکھ کر ملالی ہوگی۔ اور واقعی ایسا بہت جگہ ہوا ہے کہ پہلے زمانے کے بعض کم علموں نے اپنی کسی بات کی تحقیق وتاکید کے لئے قلمی کتابوں میں جو جو مضمون بڑھایا یا کم کیا اب وہ چھاپے ہوجانے کے بعد ان کا پتا چل رہا ہے ۔ مانعین کہتے ہیں کہ اس کام کو ثواب سے کیا علاقہ ہے، ایك مولوی اس فعل بے اصل کے فاعل نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ جیساکہ ان آلات کو میّت کی قبر کھودنے میں تکلیف ہوئی ہے اب مناسب ہے کہ یہ آلات بھی میّت کے اوپر سے گزریں تاکہ بدلہ ہوجائے اس کا جواب بھی ترکی بہ ترکی دیا گیا کہ چاہئے کہ گورکن لوگ بھی میّت یا اس کی قبر سے کُود کر پاؤں کی طرف کو چلے جایا کریں، عجیب جہالت ہے۔ بعدہ علمائے مانعین نے اشتہار دے دیا کہ فعل بدعت سیئہ معلوم ہوتا ہے۔ ہزاروں کتابیں تلاش کی گئیں پتا نہ ملا اور مجوزین بھی نہیں دکھا سکتے۔ لہذا ترك کرنا چاہئے۔ زید امام مسجد کہتا ہے کہ عدم ذکر فی الکتب کے ساتھ دلیلِ عدم جواز اس فعل پر لانا درست نہیں۔عبارت اس کے مکتوب کی یہ ہے :
|
۱عدم وجود المسئلۃ فی کتب الفقہ واصول الفقہ والتفسیر والحدیث وغیرھا نفی الذکر و الذکر فی الکتب من الدلیل |
(۱) مسئلہ کا فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر، حدیث وغیرہ کی کتابوں میں موجود نہ ہو نا نفی ذکر ہے۔اور دلیل کتابوں میں مذکور ہونا ہے، تو نفی ذکر سے تمسك بلا دلیل ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع