30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھتا ہے؟ مفصل مدلل بحوالہ کتب جواب باصواب مرحمت فرمایا جائے۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور اگر مرورِ زمان سے اس کی خاك منتشر ہوگئی ہوا ور نئی ڈالي گئی یا منتشر ہوجانے کا احتمال ہو تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشانی باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے بہ علل فی الدر وغیرہ ان لایذھب الاثر فیمتھن ( درمختا وغیرہ میں یہ علّت بیان فرمائی ہے کہ نشانی مٹ جانے کے سبب بے حرمتی نہ ہو ۔ت) اس کے لئے کوئی دن معین نہیں ہوسکتا ہے جب حاجت ہو اور بے حاجت پانی کا ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں ، اور عاشورہ کی تخصیص محض بے اصل وبے معنی ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۵: از شہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد صاحب سوداگر پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہندہ کو قبر میں اتارنے اور تختے لگانے کے بعد مٹی کچھ ہی دی گئی کہ بارانِ رحمت شروع ہوگئی ہندہ کی قبر پر بارش کے پانی کے علاوہ اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہ ہوئی۔کچھ اشخاص کہتے ہیں جس مُردہ کی قبر پر بجائے پانی دنیا کے بارانِ رحمت ہو وہ مُردہ جنتی ہے، اس کی کچھ اصلیّت شرع میں ہے یا نہیں؟ فقط
الجواب:
بارش رحمت فالِ حسن ہے خصوصًا اگر خلافِ عادت ہو۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۶: از شہر کہنہ ۱۱جمادی الاخرٰی ۱۳۱۷ ھ
|
چہ می فرمایند علمائے دین کہ بعد مُردنِ میّت تادفنِ میّت از کدام چل سوال از میّت می پر سند۔ بینوا توجروا۔ |
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ میّت کے مرنے کے بعد سے دفن ہونے تك کون سے چالیس سوال میّت سے ہوتے ہیں؟ بینوا توجروا۔ (ت) |
الجواب:
|
سوال از میّت بعد دفن ست پیش ازاں ہیچ سوالے درحدیث نیامدہ ۔واﷲ تعالٰی اعلم |
میّت سے سوال دفن کے بعد ہوتا ہے اس سے پہلے کوئی سوال حدیث میں نہ آیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ۹۷: از موضع شمس آباد ضلع کیمل پور پنجاب مسئولہ مولوی غلام ربانی صاحب ۱۱جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین، خصوصًا حضرت عالم اہلسنت وجماعت مجدّد مائۃ حاضرہ زید مجدہم اس مسئلہ میں کہ ضلع کیمل پور کے پچاس ساٹھ موضع میں اور ایسا پشاور کے ضلع میں دس بیس موضع میں گاہے گاہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع