30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عاقل کہہ سکتاہے کہ نماز جنازہ ادا ہوئی او راس طرح کی نماز میں حرج نہیں، دعائےست کہ می کنند فلا باس بہ ( ایك دعاہے جو یہ لوگ کرتے ہیں تواس میں کوئی حرج نہیں ۔ت) اجماع ائمہ مذہب کے خلاف ایسی بے معنی استناد کیسی جہالتِ شدیدہ ہے۔ شك نہیں کہ قاضی ممدوح گیارھویں صدی کے ایك عالم تھے مگر عالم، سے لغزش بھی ہوتی ہے، پھر اس کی لغزش سے بچنے کا حکم ہے نہ کہ اتباع کا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اتقوا ز لۃ العالم وانتظر وافَیْنئَتَہ، [1] ۔ رواہ الحسن بن علی الحلوانی استاذ مسلم و ابن عدی والبیھقی والعسکری فی الامثال عن عمر وبن عوف المزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
عالم کی لغزش سے بچو او راس کے رجوع کا اتنظار رکھو۔ اسے استاذِ امام مسلم حسن بن علی حلوانی ، ابن عدی، بیہقی او رامثال میں عسکری نے حضرت عمروبن عوف مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت) |
عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: عالم سے لغزش ہوتی ہے تو وہ اس سے رجوع کرلیتاہے اور اس کی خبر شہروں شہروں پہنچ کر لغزش اس سے منقول رہ جاتی ہے [2]ذکرہ المناوی فی فیض القدیر ( اسے علامہ مناوی نے فیض القدیر میں لکھا ۔ ت)
خدارا نصاف ! ذرایوں فرض دیکھئے کہ کتبِ مذہب میں جواز نمازغائب وتکرار جنازہ کی عام تصریحات ہوتیں، اورایك قاضی ممدوح نہیں ان جیسے دوسو قاضی اسے ناجائز بتاتے اور کوئی شخص کتب مذہب کے مقابل ان دوسو سے سند لاتا تو دیکھیے یہ حضرات کس قدر غل مچاتے، اُچھل اُچھل پڑتے کہ دیکھو کتب مذہب میں تو جواز کی صاف تصریح ہے اور یہ شخص ان سب کے خلاف گیارھویں صدی کے دوسو قاضیوں کی سنددیتا ہم ان کی مانیں یا کتب مذہب کو حق جانیں، اور اب جو اپنی باری ہے تو تمام ائمہ مذہب کا اجماع ، تمام کتب مذہب کا اتفاق سب بالائے طاق، اور تنہا قاضی ممدوح کو تقلید کااستحقاق، اس ظلم صریح وجہل قبیح کی کوئی حد ہے، مگریہ ہے کہ جب کہیں کچھ نہ پایا الغریق یتشبث بالحشیش ڈوبتا سِوار ( تنکا ) پکڑتا ہے وباﷲ العصمۃ۔
مدراج النبوۃ نہ کوئی فقہ کی کتاب ہے نہ اس میں یہ حکایت بغرض استناد، نہ شیخ کو اس پرتعویل واعتماد، وہ حنفی ہیں اور مذہب حنفی خود اسی کتاب میں اسی عبارت سے اوپر بتارہے ہیں، مذہب امام ا بو حنیفہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع