30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر جسے ادنٰی لیاقتِ اجتہاد بھی نہیں جمیع ائمہ مذہب کے خلاف اس کی بات کیا قابل التفات! طحطاوی باب العدت میں ہے :
|
النص ھو المتبع فلا یعول علی البحث معہ [1] ۔ |
نقل ہی کا اتباع ہے تو مسئلہ منقول ہوتے ہوئے بحث کا اعتبار نہ ہوگا۔ |
(٢) تصریح ہے کہ خلاف مذہب بعض مشائخ مذہب کے قول پر بھی عمل نہیں، ہم نے العطایا النبویہ میں اس کی بہت نقول ذکر کیں،
حلبی علی الدرباب صلٰوۃ الخوف میں ہے :
|
لا یعمل بہ لانہ قول البعض[2] ۔ |
اس پر عمل نہ کیا جائے کہ یہ بعض کا قول ہے۔تو جوا یك کا بھی قول نہ ہو اس پر کیونکر عمل ہوسکتا ہے۔ |
(٣) نصوص جلیہ ہیں کہ متون کے مقابل شروح، شروح کے مقابل فتاوٰی پر عمل نہیں۔ ہم نے ان کی نقول متوافرہ اپنی کتاب فصل القضا فی رسم الافتاء میں روشن کیں اور علامہ ابراہیم حلبی محشی در کے قول میں مذکور ہے :
|
لایعمل بہ لمخالفتہ لاطلاق سائر المتون [3] ۔ |
اس پر عمل نہیں کہ اطلاق جملہ متون کے خلاف ہے۔ |
جب نہ متون بلکہ صرف اطلاق عبارات متون کا مخالف ناقابل عمل تو جو متون وشروع وفتاوٰی سب کے خلاف ہے اس پر عمل کیونکرمحتمل!
(٤) پھر وہ بحث کچھ ہستی بھی رکھتی ہو، نماز جنازہ مجرد دعا کے مثل زنہار نہیں۔ دعا میں طہارت بدن، طہارت جامہ، طہارت مکان، استقبال قبلہ، تکبیر تحریمہ، قیام تحلیل، استقرار علی الارض کچھ بھی ضرور نہیں، اور نما زجنازہ میں یہ اور ان سے زائد اور بہت باتیں سب فرض ہیں، کیا اگر کچھ لوگ اسی وقت پیشاب کرکے، بے استنجا، بے وضو، بے تیمم جنازہ کے پاس آئیں اور ان میں ایك شخص قبلہ کو پشت کرکے جنازہ کی پٹی سے پیٹھ لگا کر بیٹھے اور باقی کچھ اس کے آگے برابر لیٹے بیٹھے، کچھ گھوڑو ں پر چڑھے اور اُترّ، دکھّن، پورب مختلف جہتوں خلاف قبلہ کو منہ کئے ہوں وہ پشتوں میں کہے: الہٰی! اس میّت کو بخش دے اور یہ سب انگریزی وغیرہ میں آمین کہیں، تو کوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع