30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
می رسد کہ فلان مرد صالح دربلدے از بلادِ اسلام فوت کردہ است شافعیہ نماز بروے میکنند وبعضے حنفیہ با ایشاں شریك می شونداز قاضی علی بن جار اﷲ کہ شیخ حدیث فقیر بود پرسیدہ شد کہ حنفیہ چوں شریك می شوند درگزار دن ایں نماز، گفت دُعائے است کہ میکنند فلاباس بہ [1]۔ |
جب اطلاع ملتی ہے کہ فلاں مرد صالح بلاد اسلام میں سے کسی شہر میں فوت ہوگیا تو شافعیہ اس کی نماز پڑھتے ہیں اور کچھ حنفی بھی ان کے ساتھ شریك ہوجاتے ہیں ۔ قاضی علی بن جار اﷲ سے جو فقیر کے شیخِ حدیث تھے پوچھا گیا کہ حنفیہ اس نماز کی ادائیگی میں کیسے شریك ہوتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا کہ ایك دعا ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔(ت) |
تمام نصوص صریحہ کتب معتمدہ واجماع جمیع ائمہ مذہب کے مقابل گیا رھویں صدی کے ایك فاضل قاضی کی حکایت پیش کرتے ہوئے شرم چاہئے تھی۔
(١) امام محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین ابن الہمام رحمہ اﷲ تعالٰی کہ متاخرین تو متاخرین خود ان کے معاصرین ان کے لئے مرتبہ اجتہاد کی شہادت دیتے، ان امام جلیل کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی مسئلہ مذہب پر بحث کرنا چاہیں تو ڈرتے ڈرتے یوں فرماتے ہیں:لوکان الّی شیئ لقلت کذا [2]مجھے کچھ اختیارہوتا تو یوں کہتا۔( دیکھوفتح القدیر مسئلہ آمین وکتاب الحج باب الجنایات مسئلہ حلق وغیرہما)پھر جو بحث وہ کرتے ہیں علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں مسموع نہ ہوگی، اس پر عمل جائز نہیں، مذہب ہی کاا تباع کیا جائے گا۔ ردالمحتار نواقض مسح الخف میں ہے :
|
قد قال العلامۃ قاسم لا عبرۃ بابحاث شیخنا یعنی ابن الھمام اذا خالف المنقول [3] ۔ |
علامہ قاسم نے فرمایا: ہمارے استاد امام ابن الہمام کی بحثوں کا کچھ اعتبار نہیں جب وہ مسئلہ منقولہ مذہب کے خلاف ہوں۔ |
اسی طرح جنایات الحج میں ہے۔ نکاح الرقیق میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے ہے:
|
الکمال بلغ الاجتھاد وان کان البحث لایقضی علی المذھب [4]۔ |
امام ابن الہمام رتبہ اجتہاد تك پہنچے ہوئے ہیں اگر چہ بحثِ مذہب پر غالب نہیں آسکتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع