30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں برزخ ہے کما اشارالیہ البخاری فی صحیحہ واطال فیہ ( جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے او راس بارے میں طویل کلام کیا ہے ۔ت) محمود عینی نے تصریح فرمائی کہ نماز جنازہ پر اطلاقِ صلٰوة مجاز ہے۔ صحیح بخاری میں ہے : سماھا صلٰوۃ لیس فیھا رکوع ولاسجود [1](اس کا نام رکھا ایسی نماز جس میں رکوع وسجود نہیں، ت) عمدۃ القاری میں ہے :
|
لکن التسمیۃ لیست بطریق الحقیقۃ ولا بطریق الاشتراك ولکن بطریق المجاز [2]۔ |
لیکن تسمیہ بطور حقیقت نہیں، نہ بطور اشتراك بلکہ بطریق مجاز ہے ۔(ت) |
ثانیًا :صلٰوۃ کے ساتھ جب علٰی فلان مذکور ہو ہرگز اس سے حقیقت شرعیہ مراد نہیں ہوتی ، نہ ہوسکتی ہے ،
|
قال اﷲ تعالٰی یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۵۶﴾[3] ۔ اللّٰھم صلّ وسلم وبارك علیہ وعلٰی اٰلہ کماتحب وترضٰی وقال وَصَلِّ عَلَیۡہِمْ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ ؕ [4] وقال صلی اﷲ علیہ وسلم اللھم صلِّ علٰی اٰلِ ابی اوفٰی [5] ۔ |
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے: اے ایمان والو ! ان پر صلٰوۃ بھیجو او خوب سلام بھیجو ۔ اے اﷲ! اُن پر اور ان کی آل پررحمت وسلامتی وبرکت نازل فرما جیسی تجھے محبوب وپسندیدہ ہے۔ اور ارشاد باری ہے : ان پر صلٰوۃ بھیج بیشك تیری صلٰوۃ ان کے لئے سکون ہے۔ اور حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اے اﷲ! آلِ ابی اوفی پر صلٰوۃ فرما۔ (ت) |
کیا اس کے یہ معنٰی ہیں کہ الہٰی ! تو آلِ ابی اوفی پر نماز یا ان کا جنازہ پڑھ؟ کیا صلٰوۃ علیہ شرع میں بمعنی دورد نہیں؟ ولکن الوھابیۃ قول یجھلون ( لیکن وہابیہ نادان قوم ہے ۔ت)
تنبیہ: بعض حنفی بننے والے یہاں یہ عذر بے معنی پیش کرتے ہیں کہ مدارج النبوۃ میں ہے:
|
والاٰن درحرمین شریفین معتارف ست کہ چوں خبر |
اور اس وقت حرمین شریفین میں متعارف ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع