30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واقعہ سوم: واقدی نے مغازی میں عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبداﷲ بن ابی بکر سے روایت کی:
|
لما التقی الناس بموتۃ،جلس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام ،فھو ینظر الٰی معرکتھم، فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخذ الروایۃ زید بن حارثۃ، فمضی حتی استشھد ، وصلی علیہ ودعالہ وقال استغفروا لہ وقد دخل الجنۃ وھو یسعٰی ثم اخذ الرایۃ جعفر بن ابی طالب فمضٰی حتی استشھد فصلی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ودعا وقال استغفروا لہ وقد دخل الجنۃ فھو یطیر فیھابجنا حین حیث شاء [1]۔ (ملخصًا) |
جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے اور اﷲ عزوجل نے حضور کے لئے پردے اٹھا دئیے کہ ملك شام او ر وه معرکہ حضور دیکھ رہے تھے، اتنے میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زید بن حارثہ نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تك کہ شہید ہوا، حضور نے انھیں اپنی صلٰوۃ ودعا سے مشرف فرمایااور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو بیشك وہ دوڑتا ہوا جنت میں داخل ہوا۔ حضور نے فرمایا پھر جعفر بن ابی طالب نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تك کہ شہید ہوا حضور نے ان کو اپنی صلٰوۃ ودعا سے شرف بخشا اور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو وہ جنت میں داخل ہوا اور اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتاپھرتا ہے۔ |
اوّلا یہ دونوں طریق سے مرسل ہے اقول عاصم بن عمر او ساط تابعین سے ہیں، قتادہ بن نعمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ صحابی کے پوتے اور یہ عبداﷲ بن ابی بکر عبد اﷲ بن ابی بکر محمد بن عمرو بن حزم ہیں، صغار تابعین سے عمرو بن حزم صحابی رضی اﷲ عنہ کے پر پوتے۔
ثانیًا خود واقدی کو محدثین کب مانتے ہیں، یہاں تك کہ ذہبی نے ان کے متروك ہونے پر اجماع کا ادعا کیا [2]
|
اقول: و زدت ھذا مشایعۃ للاوّل وکلاھما الزام فالمرسل نقبلہ والواقدی نوثقہ۔ |
اقول: ( میں کہتا ہوں) یہ نقد ، پہلے نقد کی روش پر میں نے بڑھا دیا ہے اور دونوں اعتراض الزامی ہیں ورنہ ہمارے نزدیك حدیث مرسل مقبول ہے اور واقدی ثقہ ہیں ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع