30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی صاحب صحابہ میں یاد نہیں [1] اثرہ فی المیزان ( اسے ذہبی نے میزان میں نقل کیا ۔ ت)
ثانیًا فرض کیجئے کہ یہ حدیث اپنے طُرق سے ضعیف نہ رہے کما اختارہ الحافظ فی الفتح( جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اسے فتح الباری میں اختیار کیا ہے ۔ت) یا بفرض غلط لذاته صحیح سہی پھراس میں کیا ہے خود اسی میں تصریح ہے کہ جنازہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پیش نظرانور کردیا گیا تھا تو نماز جنازہ حاضرپر ہوئی نہ کہ غائب پر حدیث ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لفظ طبرانی کے یہاں یہ ہیں: جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حاضرہو کر عرض کی : یا رسول اﷲ !معاويہ بن معاویہ مزنی نے مدینہ میں انتقال کیا۔
|
اتحب ان اطوی لك الارض، فتصلی علیہ قال نعم، فضرب بجناحہ علی الارض فرفع لہ سریرہ فصلی علیہ، وخلفہ صفان من الملائکۃ کل صف سبعون |
کیا حضور چاہتے ہیں کہ حضور کےلئے زمین لپٹ دوں تاکہ حضور ان پر نماز پڑھیں، فرمایا: ہاں ۔ جبریل نے اپنا پر زمین پر مارا جنازہ حضور کے سامنے ہوگیا اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی، اور فرشتوں کی دو٢ صفیں |
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
استیعاب میں اس قصہ کا مثل معاویہ بن مقرن کے حق میں ابوامامہ سے روایت کیا۔ پھر کہا نیزاس کا مثل انس سے ترجمہ معاویہ بھی معاویہ مزنی میں روایت کیا [2]۔ اس میں یہ وہم لاتاہے کہ گویا تین صحابی جدا جدا ہیں جن پرنمازغائب مروی ہے، حالانکہ یہ محض جہل یاتجاہل ہے وہ ایك صحابی ہیں معاویہ نام جن کے نسب ونسبت میں راویوں سے اضطراب واقع ہوا، کسی نے مزنی کہا، کسی نے لیثی، کسی نے معاویہ بن معاویہ، کسی نے معاویہ بن مقرن، ابو عمر نے معاویہ بن مقرن مزنی کو ترجیح دی کہ صحابہ میں معاویہ بن معاویہ کوئی معلوم نہیں اور حافظ نے اصابہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کو ترجیح دی اور لیثی کہنے کو علاء ثقفی کی خطا بتایا اور معاویہ بن مقرن کو ایك اورصحابی مانا جن کے لئے یہ روایت نہیں بہر حال صاحب قصہ شخص واحد ہیں، اور شوکانی کا ایہام تثلیث محض باطل۔ ابن الاثیرنے اسدالغابہ میں فرمایا: معاویہ بن معاویہ المزنی ویقال اللیثی ویقال معاویۃ بن مقرن المزنی قال ابوعمر وھو اولی بالصواب [3]الخ یعنی معاویہ بن معاویہ مزنی، اور کوئی کہتا ہے معاویہ بن مقرن مزنی، ابو عمرو نے کہا یہی صواب سے نزدیك تر ہے۔ پھر حدیث انس کے طریق اول سے پہلے طور پر نام ذ کر کیا اور طریق دوم سے دوسرے طور پر اور حدیث ابوامامہ سے تیسرے طور پر ۔ ١٢ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع