30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قلت ومن ھذا الوجہ اخرجہ الطبرانی وابن الضریس وسمویۃ فی فوائدہ وابن مندۃ والبھیقی فی الدلائل [1] ۔ |
قلت ( میں کہتاہوں) اسی طریق سے اُسے طبرانی ، ابن ضریس، فوائد میں سمویہ، ابن مندہ، اور دلائل میں بہیقی نے روایت کیا ۔ (ت) |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) وابن سعد من حدیث انس وعلی وزید وجعفر لما استشھد بموتہ علی مافی مغازی الواقدی [2] تصحیف وصوابہ وابن سعد من حدیث انس وعلی زید و جعفر ای وصلی علیھما فقد اخذ کلام الفتح ھذا برّمتہ الحبلی فی الغنیۃ فقال وابن سعد من حدیث انس وکذ اصلی علٰی زید و جعفر [3] وکذا اخذہ بتمامہ القاری فی المرقاۃ فقال وابن سعد من حدیث انس وصلی علٰی زید وجعفر [4] وقد جمع الحافظ طرق الحدیث فی الاصابۃ فلم یذ کرہ عن علی ولا عن غیرہ من الصحابۃ سوی انس و ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ١٢ منہ (م)
|
روایت کیا ہے اور ابن سعد نے حضرت انس اور علی سے، اور زید و جعفر پر بھی نماز پڑھی، جب یہ دونوں حضرات موتہ میں شہید ہوئے جیسا کہ مغازی واقدی میں ہے ___ تواس عبارت( من حدیث انس و علی وزید و جعفر ) میں تصحیف ( کتابت کی غلطی) ہے۔ صحیح عبارت اس طرح ہے ( وابن سعد من حدیث انس و علی زید وجعفر) یعنی اور اسے ابن سعد نے حضرت انس سے روایت کیا، اور حضور نے حضرت زید و حضرت جعفر کی بھی غائبانہ نماز جنا پڑھی۔ اس خطائے کتابت کی دلیل یہ ہے کہ فتح القدیر کا پورا کلام لے کر علامہ حلبی نے غنیہ میں یوں لکھا: وابن سعد من حدیث انس ، وکذا صـلی علی زید و جعفر( اور ابن سعد نے اسے حضرت انس سے روایت کیا، اور اسی طرح حضور نے حضرت زید و حضرت جعفر کی نماز پڑھی) یوں ہی علامہ علی قاری نے اسے مکمل اخذ کرکے مرقات میں یوں لکھا: وابن سعد من حدیث انس ، وصلی علی زید و جعفر (ا ور ابن سعد نے حضرت انس کی حدیث میں اسے روایت کیا اور حضور نے حضرات زید و جعفر کی نماز پڑھی___ اور حافظ ابن حجر نے اصابہ میں اس حدیث کے تمام طُرُق جمع کئے ہیں مگرا ن میں حضرت علی یا کسی اور صحابی سے روایت کا ذ کر نہیں، صرف حضرت انس وابوامامہ کا ذکر ہے۔ رضی اﷲ تعالٰی عنہم (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع