30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لفظ الحافظ في الاصابۃ قال ابن حبان فی ترجمۃ العلاء الثقفی من الضعفاء بعد ان ذکر لی ھذا الحدیث سرقہ شیخ من اھل الشام، فرواہ عن بقیۃ فذ کرہ [1] اھ ولیس فیہ یقال وقدنقل عنہ ھکذا الذھبی فی العلاء اماقول الحافظ فما ادری عنی نوحًا اوغیرہ فانہ لم یذکر نوحًا فی الضعفاء [2] فاقول: ظاھران نوحا ھوالشیخ الشامی الذی رواہ عن بقیۃ ولا مشار للشك حتی یثبت شامی اخریرویہ عنہ لاجرم ان جزم الذھبی بانہ عنی بہ نوحا۔
|
اصابہ میں حافظ ابنِ حجر کے الفاظ یہ ہيں: ابن حبان نے علاء ثقفی ضعیف کے ترجمہ میں اس کی یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا: اسے شام کے ایك شیخ نے چُرا کر اسے بقیہ سے روایت کردیا، پھر حدیث ذکر کی اھ ___ اصابہ کی اس عبارت میں ابن حبان کے حوالہ میں لفظِ یقال(کہا جاتا ہے) نہیں ہے___ اور خود ذہبی نے علاء کے بارے میں ابن حبان سے اسی طرح نقل کیا ہے___اب رہا حافظ ابن حجر کا یہ کلام کہ " پتا نہیں ابن حبان نے نوح ہی کو مراد لیاہے یاکسی اور کو؟ کیونکہ انھوں نے نوح کو ضعفاء میں ذکر نہیں کیا ہے" ____ فاقول:( تو میں کہتا ہوں) ظاہر ہے کہ نوح وہ شامی شیخ ہے جس نے یہ حدیث بقیہ سے روایت کی ہے، اس میں کسی شك کی گنجائش ہی نہیں کہ یہ ثابت کیا جائے کہ کوئی اور شامی شیخ اس سے روایت کرنے والا ہے، لامحالہ ذہبی نے جزم کیا کہ ابن حبان نے اس سے نوح ہی کومراد لیا ہے۔ (ت) |
انس عــــہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی روایت طبقات ابن سعد میں دوطریق سے ہے: ایك طریق محبوب بن ہلال مزني ہے۔
|
عــــہ: تنبیہ: لم یرد الحدیث عن صحابی غیر انس وابی امامۃ اماما وقع فی نسختی فتح القدیر والمطبوعتین بمصر والھند من قولہ بعدذکر قصہ النجاشی فان قيل بل قد صلی علی غیرہ من الغیب وھو معاویۃ بن معاویۃ المزنی، ویقال الیثی رواہ الطبرانی من حدیث ابی امامۃ |
تنبیہ: یہ حضرت انس اور ابوا مامہ کے علاوہ کسی اور صحابی سے وارد نہیں___ رہی فتح القدیر کی یہ عبارت جواس کے مصر اور ہند کے طبع شدہ دونوں نسخوںمیں ہے کہ " واقعہ نجاشی ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں: اگر اعتراض ہو کہ حضور نے نجاشی کے علاوہ دوسرے پر بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے۔ وہ معاویہ بن معاویہ مزنی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ " لیثی" ___ اسے طبرانی نے حضرت ابوامامہ سے(باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع