30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
o رسالہ جمل النور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور(عورتوں کوقبروں پرجانا جائزنہیں) |
٥٤١ |
دس ہزار بریانی کی دیگیں مردارمینڈھے کی اور دس ہزار مذبوح جانوروں کی مختلط ہوں تو تمام بیس ہزار حرام ہیں۔ |
٥٥٤ |
|
مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب مدرس اول مدرسہ قادریہ احمدآباد گجرات نے ایك رجسٹری مصنف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی خدمت میں بھیجی جس میں بحرالرائق اور تصحیح المسائل کے حوالے سے عورتوں کے لیے زیارت قبور کوجانے کی اجازت پرزور دیاگیا۔ آپ نے رجسٹری کامختصرجواب دیا جس میں اس اجازت سے اختلاف فرمایا۔ مولاناموصوف نے دوبارہ رجسٹری بھیجی جس میں اپنے موقف پرشدید اصرارکیا، جس کے جواب میں مصنف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے مباحث جلیلہ پرمشتمل یہ رسالہ تحریرفرمایا۔ |
٥٤١ |
عورتوں کے لیے زیارت قبور کوجانے کی ممانعت عام ہے صرف فاسقات کے ساتھ خاص نہیں۔ |
٥٥٦ |
|
تابعین کے زمانے ہی سے ائمہ نے عورتوں کومسجد جانے کی ممانعت شروع فرمادی، پہلے جوان عورتوں کو، پھربوڑھیوں کوبھی، پہلے دن میں ، پھر رات میں بھی، یہاں تك کہ حکم ممانعت عام ہوگیا۔ |
٥٤٩ |
حضرت زبیررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے اپنی زوجہ مطہرہ کومسجد سے روکنے کا واقعہ۔ |
٥٥٨ |
|
ہربعدوالا سال پہلے سے بدترہے۔ |
٥٤٩ |
عورت کے لیے زیارت قبور کی ممانعت کی دوعلتیں ہیں: خوف فتنہ اور خوف فسّاق۔ |
٥٥٩ |
|
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کاارشاد ہے کہ اگرحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عورتوں کی موجودہ حالت دیکھتے تو انہیں مسجدمیں آنے کی اجازت نہ دیتے۔ |
٥٤٩ |
خروج زن کے سات مواضع ہیں، ان کے علاوہ اس کے لیے خروج ناجائز، اگرشوہر اجازت دے تودونوں گنہگار ہیں۔ |
۵۶۱ |
|
حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کومسجدمیں آنے سے روك دیا۔ |
٥٤٩ |
خروج کے بغیر عورت کے لیے اگرزیارت قبر ممکن ہو تو چندشرائط کے ساتھ جائزہے۔ |
٥٦٣ |
|
حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہا جمعہ کے دن کنکریاں مارکر عورتوں کو مسجد سے نکالتے۔ |
٥٥٠ |
نادرپرحکم نہیں ہوتا۔ |
٥٦٣ |
|
حضرت ابراہیم نخعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنی مستورات کو جمعہ وجماعات میں نہ جانے دیتے۔ |
٥٥٠ |
ائمہ باطن کااجماع ہے کہ عورت داعی الی اﷲ نہیں ہوسکتی، ہاں تدابیر ارشاد کردہ مرشد بتانے میں سفیر محض ہوتو حرج نہیں۔ |
۵۶۴ |
|
سلب مفسدہ جلب مصلحت پرمقدم واہم ہے۔ |
٥٥١ |
حضرت مریم بنت عمران اور حضرت آسیہ تقوٰی میں کمال رکھتی تھیں۔ |
٥٦٤ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع