30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ع آخرایں ترك وبایں مرتبہ بے چیزے نیست
(آخر اجلہ صحابہ کرام کے شہید ہونے پر آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ان کی نمازِ جنازہ کو ترك فرمانا بغیر کسی وجہ کے نہیں ہوسکتا)
اہل انصاف کے نزدیك کلام تو اسی قدر سے تمام ہوا مگر ہم ان وقائع ثلٰثہ کا بھی باذنہ تعالٰی تصفیہ کریں۔
واقعۂ اولٰی: جب اصحمہ رضی اﷲتعالٰی عنہ بادشاہ حبشہ نے حبشہ میں انتقال کیا۔سیّد المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں صحابہ کرام کو خبر دی مصلّٰی میں جاکر صفیں باندھ کر چار تکبیریں کہیں[1]۔رواہ الستۃ عن ابی ھریرۃ و الشیخان عن جابر کنت فی الصف الثانی اوالثالث٢[2]رضی اﷲ تعالٰی عنہما(اسے اصحابِ ستہ نے حضرت ابو ھریرہ سے روایت کیا اوربخاری و مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا، رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ت)اوّلًا صحیح ابن حبان میں عمران بن حصین رضی اﷲتعالٰی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا سے ہے:
|
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال ان اخاکم النجاشی توفی فقوموافصلوا علیہ فقام رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وصفوا خلفہ فکبر اربعاوھم لایظنون الا ان جناز تہ بین یدیہ[3]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارا بھائی نجاشی مر گیا، اٹھو اس پر نماز پڑھو۔ پھر حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کھڑے ہوئےصحابہ نے پیچھے صفیں باندھیں۔حضورنے چار تکبیریں کہیں، صحابہ کو یہی ظن تھا کہ ان کا جنازہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہے۔ |
صحیح ابوعوانہ میں انہیں میں سے ہے:
|
فصلینا خلفہ ونحن لانری الا ان جنازۃ قدامنا[4]۔ اقول :ھذافی فتح الباری ثم المواھب ثم شرحھا وکذلك فی |
ہم نے حضور کے پیچھے نماز پڑھی اورہم یہی اعتقاد کرتے تھے کہ جنازہ ہمارے آگے موجود ہے۔ اقول: ابوعوانہ و ابن حبان کے حوالے سےفتح الباری پھر مواہب پھر شرح مواہب میں یہی الفاظ |
[1] صحیح البخاری باب الصفوف علی الصفوف علی الجنازہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۷۶
[2] صحیح البخاری باب من صف صفین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۷۶
[3] الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان فصل فی الصّلٰوۃ علی الجنائز مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵/۴۰
[4] فتح الباری بحوالہ ابی عوانہ باب الصفوف علی الجنازہ مصطفی البابی مصر ۳/۴۳۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع