30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وبارك وسلم علیہ وعلٰی اٰلہ قدر نورہ وجمالہ وجاھہ وجلالہ وجودہ ونوالہ ونعمہ وافضالہ رواہ مسلم و ابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔ |
اﷲ تعالٰی رحمت وبرکت و سلامتی نازل فرمائے ان پر اوران کی آل پر ان کے نور وجمال ،جاہ وجلال، جود ونوال، نِعَم وافضال کے حساب سے ۔حدیث مذکور کو مسلم اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ |
با ایں ہمہ حالانکہ زمانہ اقدس میں صدہاصحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم نے دوسرے مواضع میں وفات پائی، کبھی کسی حدیث صریح سے ثابت نہیں کہ حضور نے غائبانہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھی۔کیا وہ محتاج رحمت والا نہ تھے، کیا معاذاﷲ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو ان پر یہ رحمت وشفقت نہ تھی،کیا ان کی قبور اپنی نماز پاك سے پُرنور نہ کرنا چاہتے تھے،کیا جومدینہ طیبہ میں مرتے انہیں کی قبور محتاج نور ہوتیں اور جگہ اس کی حاجت نہ تھی۔یہ سب باتیں بداھۃًباطل ہیں تو حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا عام طور پر ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا ہی دلیل روشن وواضح ہے کہ جنازہ غائب پر نماز ناممکن تھی ورنہ ضرور پڑھتے کہ مقتضی بکمال وفور موجود اور مانع مفقود۔لاجرم نہ پڑھنا قصدًا باز رہنا تھا اور جس امر سے مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم بے عذر مانع بالقصد احتراز فرمائیں وُہ ضرور امرِ شرعی ومشروع نہیں ہوسکتا دوسرے شہر کی میّت پر صلٰوۃ کاذکر صرف تین واقعوں میں روایت کیاجاتا ہے۔واقعہ نجاشی و واقعہ معٰویہ لیثی و واقعہ امرائے موتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ان میں اوّل ودوم وبلکہ سوم کا بھی جنازہ حضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے سامنے حاضر تھا تو نماز غائب پر نہ ہوئی بلکہ حاضر پر، اور دوم وسوم کی سند صحیح نہیں، اور سوم صلٰوۃ بمعنی نماز میں صحیح نہیں۔ ان کی تفصیل بعونہ تعالٰی ابھی آتی ہے۔اگرفرض کیجئے کہ ان تینوں واقعوں میں نماز پڑھی تو باوصف حضور کے اس اہتمام عظیم وموفور اور تمام اموات کے اس حاجت شدیدہ رحمت ونور قبور کے صدہا کیوں نہ پڑھی ، وہ بھی محتاج حضور و حاجتمند رحمت ونور،اور حضور ان پر بھی رؤف ورحیم تھے۔ نماز سب پر فرض عین نہ ہونا اس اہتمام عظیم کا جواب نہ ہوگا، نہ تمام اموات کی اس حاجت شدیدہ کا علاج۔ حالانکہ حریص علیکم ان کی شان ہے۔ دوایك کی دستگیری فرمانا اورصدہاکو چھوڑنا کب ان کے کرم کے شایان ہے۔ ان حالات واشارات کے ملاحظہ سے عام طور پر ترك اورصرف دوایك باوقوع خود ہی بتا دے گا کہ وہاں خصوصیات خاصہ تھی جس کا حکم عام نہیں ہوسکتا۔حکم عام وہی عدم جواز ہے جس کی بناپر عام احتراز ہے۔ اب واقعہ بیر معونہ ہی دیکھئے۔ مدینہ طیبہ کے ستر٧جگر پاروں محمد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کےخاص پیاروں،اجلّہ علمائے کرام صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کو کفار نے دغا سے شہید کردیا۔مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو ان کا سخت و شدید غم والم ہوا۔ایك مہینہ کامل خاص نماز کے اندر کفار ناہنجار پر لعنت فرماتے رہے، مگر ہرگز منقول نہیں کہ ان پیارے محبوبوں پر نماز پڑھی ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع