30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو اطلاع نہ دی اور دفن کردیا تو ارشاد فرماتے:
|
لاتفعلو ا ادعونی لجنائزکم [1]۔رواہ ابن ماجۃ ف۱ عن عامر بن ربیعۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ ۔ |
ایسا نہ کرو مجھے اپنے جنازوں کے لئے بلالیا کرو، اسے ابن ماجہ نے عامر بن ربیعہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا، |
اور فرماتے :
|
لاتفعلوا لایموتن فیکم میّت ماکنت بین اظھرکم الا اذنتمونی بہ فان صلٰوتی علیہ رحمۃ[2]۔رواہ الامام احمد عن زید بن ثابت ف٢ رضی اﷲتعالٰی عنہ و رواہ ابن حبان والحاکم عن زید بن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث اٰخر۔ |
ایسا نہ کرو جب تك میں تم میں تشریف فرماہوں ہرگز کوئی میّت تم میں نہ مرے جس کی اطلاع مجھے نہ دو کہ اُس پر میری نماز موجبِ رحمت ہے۔اسے امام احمد نے زید بن ثابت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا۔اور اسے ابن حبان اورحاکم نے زید بن ثابت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے حدیث کے آخر میں روایت کیا۔ |
اور فرماتے:
|
ھذہ القبور مملوۃ ظلمۃً علی اہلھا وانی انورھا بصلٰوتی علیھم ٣[3]۔صلی اﷲتعالٰی |
بیشك یہ قبریں اپنے ساکنوں پر تاریکی سے بھری ہیں اور بیشك میں اپنی نماز سے انہیں روشن فرمادیتا ہوں۔ |
ف۱: یہ حدیث "تمہید" میں بھی منقول ہے اس پر تحقیق والے نے جنائز ابن ماجہ کا حوالہ دیا لیکن مجھے یہ حدیث ابن ماجہ میں ان الفاظ کے ساتھ نہیں مل سکی البتہ مسند احمد بن حنبل میں انہی الفاظ سے یہ حدیث منقول ہے حوالہ ملاحظہ ہو۔ نذیر احمد
ف٢: یہی حدیث ابن ماجہ نے یزید بن ثابت کے حوالہ سے نقل کی اورمسند احمد بن حنبل میں بھی یزید کے حوالے سے منقول ہے اور یزید زید کے بڑے بھائی ہیں۔ نذیر احمد
[1] مسند احمد بن حنبل حدیث عامر بن ربیعہ دارالفکر بیروت ۳/۴۴۴،التمہید اباحۃ الصلٰوۃ علی القبرالخ المکتبۃ القدوسیہ اردوبازار لاہور ۶/۱۶۷
[2] مسند احمد بن حنبل حدیث یزید بن ثابت دارالفکر بیروت ٤/٣٨٨
[3] صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/۳۱۰،مسند احمد بن حنبل مروی ازابوھریرہ رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۲/۳۸۸،الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان فصل فی الصلٰوۃ الجنائز موسسۃ الرسالۃ بیروت ۵/۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع