30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس پر نماز جائز نہیں ،نہ کسی غائب پر جائز ہے۔ (۲۲۴) شرح مجمع(۲۲۵) مجمع شرح ملتقی میں ہے:
|
محل الخلاف فی الغائب عن البلد اذلوکان فی البلد لم یجز ان یصلی علیہ حتی یحضر عندہ اتفاقا لعدم المشقۃ فی الحضور[1]۔ |
امام شافعی رضی اﷲتعالٰی عنہ کا اس مسئلہ میں ہم سے خلاف بھی اس صورت میں ہے کہ میّت دوسرے شہر میں ہو اگر اسی شہر میں ہو تو نماز غائب امام شافعی کے نزدیك بھی جائز نہیں کہ اب حاضر ہونے میں مشقت نہیں۔ |
(۲۲۶) فتاوٰی خلاصہ میں ہے : لایصلی علٰی میّت غائب عندنا[2]۔ ہمارے نزدیك کسی میّت غائب پر نماز نہ پڑھی جائے۔ (۲۲۷) متن وافی میں ہے :
|
من استھل صلی علیہ والّالاکغائب[3]۔ |
جوبچّہ پیداہوکر کچھ آواز کرے جس سے اس کی حیات معلوم ہو پھر مرجائے اس پر نماز پڑھی جائے ورنہ نہیں،جیسے غائب کے جنازہ پر نماز نہیں۔ |
(۲۲۸)کافی میں ہے:
|
لایصلی علٰی غائب وعضو خلافا للشافعی بناء علی ان صلاۃ الجنازۃ تعاد ام لا [4]۔ |
کسی غائب یا عضو پر نماز ہمارے نزدیك ناجائز ہے اوراس میں امام شافعی کا خلاف ہے اس بناء پر کہ نماز جنازہ ان کے نزدیك دوبارہ ہوسکتی ہے، ہمارے نزدیك نہیں۔ |
(۲۲۹) فتاوٰی شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی میں ہے:
|
ان اباحنیفہ لایقول بجواز الصلاۃ علی الغائب[5]۔ |
ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ جنازہ غائب پر نماز جائز نہیں مانتے۔ |
(۲۳۰) منظومۂ امام مفتی الثقلین میں ہے: ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع