30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۰۸) فتح القدیر(۲۰۹) حلیہ(۲۱۰) غنیـہ(۲۱۱) شلبیہ(۲۱۲) بحرالرائق(۲۱۳) ارکان میں ہے:
|
وشرط صحتہا اسلام المیت وطہارتہ وضعہ امام المصلی فلھذا القیدلاتجوز علی غائب [1]۔ |
صحتِ نماز جنازہ کی شرط یہ ہے کہ میّت مسلمان ہو طاہر ہو، جنازہ نمازی کے آگے زمین پررکھا ہو ۔اسی شرط کے سبب کسی غائب کی نماز جنازہ جائز نہیں۔ |
حلیہ کے لفظ یہ ہیں:
|
شرط صحتھا کونہ موضوعاامام المصلی ومن ھنا قالوا لاتجوز الصلٰوۃ علی غائب مطلقا[2]۔ |
نمازِ جنازہ کی شرائطِ صحت سے ہے جنازہ کا مصلّی کے آگے ہونا۔اسی لئے ہمارے علماء نے فرمایا کہ مطلقًا کسی غائب پر نماز جائز نہیں۔ |
(۲۱۴)متن تنویرالابصارمیں ہے:
|
شرطہا وضعہ امام المصلی[3]۔ |
جنازہ کا نمازی کے سامنے ہونا شرطِ نماز جنازہ ہے۔ |
(۲۱۵) برہان شرح مواہب الرحمن طرابلسی(۲۱۶) نہر الفائق (۲۱۷) شرنبلالیہ علی الدرر(۲۱۸) خادمی (۲۱۹) ہندیہ(۲۲۰) ابوالسعود ۔ (۲۲۱) درمختار میں ہے :
|
شرطھا حضورہ فلاتصح علٰی غائب[4]۔ |
جنازہ کاحاضر ہونا شرطِ نماز ہے لہذا کسی غائب پر نمازِ جنازہ صحیح نہیں۔ |
(۲۲۲) متن نورالایضاح میں ہے :
|
شرائطہا اسلام المیت وحضورہ [5]۔ |
صحتِ نمازِجنازہ کی شرطوں سے ہے میّت کا مسلمان ہونا اور نمازیوں کے سامنے حاضر ہونا۔ |
(۲۲۳) متن ملتقی الابحر میں ہے: لایصلی علی عضو ولاعلی غائب[6]۔ میّت کا کوئی عضو کسی جگہ ملے تو
[1] فتح القدیر فصل فی الصلٰوۃ علی المیت مکتبہ نوریہ رضویہ ۲/۸۰،غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۸۳
[2] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[3] درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۲۱
[4] درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۲۱
[5] نورالایضاح فصل فی الصّلٰوۃ علی المیّت مطبع علیمی لاہور ص٥۵۶
[6] ملتقی الابحر فصل فی الصّلٰوۃ علی المیّت موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/۱۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع