30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترك مذہب کرتے یہ کیونکر متصور ہوسکتا ہے۔
ثالثًا:پہلی نمازیں غیرولی نے پڑھیں تو ولی کو اختیارِ اعادہ تھا کہ امام کے ولی صاحبزادۂ جلیل حضرت سیدنا حماد ابن ابی حنیفہ تھے جب انہوں نے پڑھی پھر جنازۂ مبارك پر کسی نے نہ پڑھی۔امام ابن حجر مکی خیرات الحسان میں فرماتے ہیں:
|
مافرغوا من غسلہ الا وقد اجتمع من اھل بغداد خلق لایحصیھم الا اﷲتعالٰی کانہم نودی لہم بموتہ وحرز من صلی علیہ فقیل:بلغواخمسین الفا، وقیل: اکثر، واعیدت الصلٰوۃ علیہ ستۃ مرات اٰخرھا ابنہ حماد [1]۔ |
ادھر امام ابوحنیفہ کے غسل سے فارغ ہوئے تھے کہ ادھر بغداد کی اتنی خلقت جمع ہوگئی جس کا شمار خداہی جانتاہے گویا کسی نے انتقال امام کی خبر پکار دی تھی، نماز پڑھنے والوں کا اندازہ کیاگیا تو کوئی کہتا پچاس ہزار تھے کوئی کہتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ تھے، اوران پر چھ بار نماز ہوئی۔آخر مرتبہ صاحبزۂ امام حضرت حماد نے پڑھی ۔ |
رابعًا:یُوں ہی واقعہ دوم میں کیاثبوت ہے کہ پہلی نماز باذن ولی تھی، بلکہ ظاہر یہی ہے کہ نمازِدوم ہی باذنِ ولی ہوئی کہ جنازہ ایك عالم حنفی کا تھا اور وہاں اس وقت حنفیہ کے رئیس الرؤسا یہی امام جلال الدین محمودبن احمدحصیری تلمیذ خاص امام جلیل قاضی خان تھے جن کی تصانیف میں جابجاتصریح ہے کہ نمازجنازہ کی تکرار جائز نہیں۔تیسری نماز والے حنبلی مذہب تھے، حنبلیہ کے یہاں جواز ہے کہ ہم پر حجت نہیں۔ بالجملہ علماء وعقلاء کا اتفاق ہے کہ واقعۃ عین لا عموم لھاخاص واقعے محل ہرگونہ احتمال، ان سے استدلال محض خام خیال نہ کہ وہ بھی اجماع قطعی تمام ائمۂ مذہب کے رد کرنے کو، جس پر جرأت نہ کرے گا مگر نااہل، شدید الجہل لاحول ولاقوۃ الّاباﷲ العلی العظیم۔
جواب سوال دوم۲: مذہب مہذب حنفی میں جنازہ غائب پر بھی محض ناجائز ہے ۔ائمہ حنفیہ کا اس کے عدمِ جواز پر بھی اجماع ہے خاص ا سکا جزئیہ بھی مصرح ہونے کے علاوہ تمام عبارات مسئلہ اولٰی بھی اس سے متعلق کہ غالبًا نمازِ غائب کو تکرار صلواۃ جنازہ لازم۔بلاد اسلام میں جہاں مسلمان انتقال کرے نماز ضرور ہوگی،اوردوسری جگہ خبر اس کے بعد ہی پہنچے گی، ولہذاامام اجل نسفی نے کافی میں اس مسئلہ کو اس کی فرع ٹھہرایا،اگرچہ حقیقۃً دونوں مستقل مسئلے ہیں۔اب اس مسئلہ کی نصوص خاصہ لیجئے ، اور بہ نظر تعلق مذکور سلسلہ عبارات بھی وہی رکھئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع