30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول لکن الذی رأیت فی الغیاثیۃ ماقدمت ان قال الحلوانی الصحیح روایۃ الحسن ونفتی بھٰذا [1]اھ فلعلھا العتابیۃ بمھملۃ فتاء قرشت فموحدۃ ۔اقول: وقد اسمعناك التنصیص علی استثناء الولی عن المختصر والبدایۃ والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والوافی والغرر والھدایۃ وقصرالاجازۃ علی خوف الفوت عنہا وعن الطحطاوی والکنز والتنویر والملتقی ونورالایضاح وھذہ کلہا متون المذھب المعتمد علیھا الموضوعۃ لنقل المذھب فلااقل من ان یکون ایضًا ظاھرالروایۃ وقد تظافرت علیہ تصحیحات الجلۃ ولایذھب علیك ما لہ من قوۃ الدلیل فعلیہ یجب الاعتماد والتعویل۔ وقد اشارفی الحلیۃ الی التوفیق بان عدم الجواز للولی اذالم یحضر من ھو اقدم منہ والجواز اذا حضر و الیہ یومی کلام الغنیۃ والبحر۔ اقول: ولقد کان احسن توفیقا لولاان نص الاصل والصغرٰی سواء کان |
اقول لیکن غیاثیہ میں جو میں نے دیکھا وہ جیساکہ میں نے پہلے ذکر کیا یہی ہے کہ حلوانی نے فرمایا صحیح روایت حسن ہے اور ہم اسی پر فتوٰی دیتے ہیں اھ۔تو ہوسکتا ہے یہ عین مہملہ پھرتاے قرشت پھر ایك نقطے والی ب سے"عتابیہ"ہو۔ اقول: ہم جواز تیمم سے استثنائے ولی کی تصریح مختصر قدوری، بدایہ، وقایہ، نقایہ، اصلاح، وافی ،غرر اور ہدایہ کے حوالے سے پیش کرآئے اور صرف اندیشۂ فوت کے وقت اجازت تیمم ہونے کو کتب مذکورہ اورطحاوی، کنز، تنویر، ملتقی اور نورالایضاح کے حوالے سے بیان کیا--یہ سب متون مذہب ہیں جن پر اعتماد ہے اور جونقل مذہب کے لئے ہی لکھے گئے ہیں تو کم سے کم اتناضرور ہے کہ یہ (ولی کےلئے عدم جواز تیمم) بھی ظاہرالروایۃ ہوگا--اس پر جلیل القدر علماء کی تصحیحات بھی مجتمع ہیں اس میں دلیل کی جو قوت ہے وہ بھی عیاں ہے تو اسی پر اعتماد ضروری ہے۔حلیہ میں تطبیق کی جانب اشارہ کیا ہے کہ ولی کے لئے عدمِ جواز اُس وقت ہے جب اس سے زیادہ تقدم رکھنے والا موجود نہ ہو اور جواز اُس وقت ہے جب اس پر تقدم والا موجود ہو--اسی کی طرف غنیـہ اوربحر کی عبارتوں میں بھی اشارہ ملتا ہے۔ اقول: یہ بہت عمدہ تطبیق تھی اگرمبسوط اورصغرٰی کی یہ تصریح نہ ہوتی کہ خواہ وہ مقتدی ہو یا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع