30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والکافی والدرر والمجتبٰی وجامع الرموز وقال الصدر الشہید بہ ناخذ کما فی الخلاصۃ وکذاصححہ الامام شمس الائمۃ الحلوانی کما فی الغیاثیۃ عن منتقی الشہید وفی الغنیۃ عن الذخیرۃ۔ اقول: فماوقع فی ابن کمال پاشا من نسبۃ تصحیح خلافہ لشمس الائمۃ وتبعہ عبد الحلیم علی الدرر و الشامی علی الدرفکانہ سبق نظر۔قالوا وفی ظاھرالروایۃ یجوز للولی ایضًا لان الانتظار فیھا مکروہ [1] وجوابہ ما نقلنا اٰنفاعن البرھان فمابعدہ وعزاہ فی الخلاصۃ للاصل الفتاوٰی الصغیری وعلیہ مشی فی الظہیریۃ و خزانۃ المفتین وصححہ فی جواہر الاخلاطی و عزا تصحیحہ فی عبدالحلیم لخواہر زادہ فی الرحمانیۃ لحاشیۃ شیخ الاسلام عن النصاب و الغیاثیۃ وفتاوی الغرائب والظھیریّۃ۔ |
اورمراقی میں اس کی تصحیح نقل کی، اسی پر خلاصہ ،عنایہ، منیہ، ہندیہ،کافی، درر، مجتبٰی اور جامع الرموز میں مشی کی اورصدر شہید نے فرمایا"بہ ناخذ "(ہم اسی کو لیتے ہیں)جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔اسی طرح شمس الائمہ حلوانی نے اس کو صحیح کہا، جیسا کہ غیاثیہ میں صدرشہیدکی منتقی اورغنیـہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے۔ اقول: توعلامہ ابن کمال پاشاسے جواس کے خلاف کی تصحیح کا انتساب شمس الائمہ کی طرف ہُوا اورحاشیۂ دررمیں عبدالحلیم رومی نے اورحاشیۂ دُرمختار میں علامہ شامی نے اس کی پیروی کی گویا یہ سبقت نظر ہے۔علماء نے کہا :ظاہر الروایۃ میں ولی کے لئے بھی تیمم جائز ہے اس لئے کہ جنازہ میں انتظار مکروہ ہے۔اس کا جواب وُہ ہے جو ابھی ہم نے برہان اور اس کے بعد ذکر شدہ کتابوں سے نقل کیا۔ اور اسے (ولی کے لئے جواز تیمم کو)خلاصہ میں اصل(مبسوط)اور فتاوٰی صغرٰی کے حوالے سے بیان کیااور اسی پرظہیریہ و خزانۃ المفتین میں مشی کی ،اور جواہرالاخلاطی میں اسے صحیح کہااور حاشیۂ عبدالحلیم میں اس کی تصحیح خواہر زادہ کی طرف ،اور رحمانیہ میں نصاب، غیاثیہ، فتاوٰی غرائب اور ظہیریہ کے حوالے سے حاشیۂ شیخ الاسلام کی طرف منسوب کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع