30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۷۰)عنایہ میں ہے:
|
کل مایفوت لا الٰی بدل جاز ادائہ بالتیمم مع وجود الماء وصلٰوۃ الجنازۃ عندناکذلك لانھا لاتعاد[1]۔ |
ہر واجب کہ فوت پر بدل نہ رکھتا ہو پانی ہوتے ہوئے اسے تیمم سے اداکرسکتے ہیں اور نمازِ جنازہ ہمارے نزدیك ایسی ہی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں ہوسکتی۔ |
(۱۷۱) تبیین(۱۷۲) ارکان میں ہے:
|
صلٰوۃ الجنازۃ تفوت لاالٰی خلف فصار الماء معدوما بالنبسۃ الیھا[2]۔ |
نماز جنازہ کا بدل نہیں تو اسکے لئے پانی معدوم ٹھہرا۔ |
(۱۷۳) ظہیریہ(۱۷۴) عالمگیریہ(۱۷۵) سراجیہ(۱۷۶) شرح نورالایضاح(۱۷۷) دُرمختار(۱۷۸) رحمانیہ میں ہے :
|
والنظم للدر ولوجنبااوحائضا[3]۔ |
اس کے لئے جنب و حائض کو بھی تیمم روا--اور یہ مسئلہ وقایہ واصلاح وغررسے واضح تر گزرا۔ |
(۱۷۹) بحر(۱۸۰) ہندیہ(۱۸۱) طحطاوی علی المراقی(۱۸۲) حلیہ(۱۸۳)غنیـہ میں ہے :
|
واللفظ للبحر یجوز التیمم للولی اذا کان من ھومقدم علیہ حاضرا اتفاقالانہ یخاف الفوت[4]۔ |
سلطان وحکام کہ ولی سے مقدم ہیں وہ حاضر ہوں تو ولی کو بھی تیمم جائز ہے کہ اب اسے بھی خوفِ فوت ہوسکتا ہے۔ |
(۱۸۴) جوہرہ(۱۸۵) بحر(۱۸۶) عالمگیریہ میں ہے :
|
واللفظ لھذین یجوز للولی اذا اذن لغیرہ بالصلٰوۃ ولایجوز لمن امرہ الولی کذا فی الخلاصۃ [5]۔ |
(ان دونوں کے الفاظ ہیں کہ۔ت) ولی دوسرے کو اذنِ نماز دے دے جب بھی اُسے تیمم روا ہے (کہ اب اُسے خوفِ فوت ہوگیا) اور جسے ولی نے اذن دیا اب اسے تیمم جائز نہیں جیساکہ خلاصہ میں تصریح فرمائی(کہ اب اُسے خوفِ فوت نہیں) |
[1] العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۲۲
[2] تبیین الحقائق شر ح کنزالدقائق باب التیمم مطبعۃ کبرٰی امیریۃ مصر ١/٤٢
[3] درمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱/۴۲
[4] بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۸
[5] فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۳۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع