30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(١٥٩) منتقی امام حاکم شہید (١٦٠) فتاوٰی غیاثیہ میں ہے :
|
لایجوز التیمم لمن ینتظرہ الناس فلو لم ینتظروہ اجزاہ١[1]۔ |
جس کا انتظار ہوگا یعنی ولی و اولٰی اسے تیمم جائز نہیں اور جس کا انتظار نہ ہوگا یعنی غیر اولٰی اسے تیمم جائز ہے۔ |
(١٦١) طحطاوی علی الدر میں ہے:یعتبر الخوف بغلبۃ الظن [2]خوفِ فوت میں غالب گمان کا اعتبار ہے(١٦٢) امام اجل طحاوی شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں:
|
قد رخص فی التیمم فی الامصار خوف فوت الصلٰوۃ علی الجنازۃ وفی صلٰوۃ العیدین لان ذلك اذا فات لم یقض[3]۔ |
نمازِ جنازہ یا عید فوت ہونے کے خوف سے پانی ہوتے ہوئے شہروں میں تیمم کی اجازت ہے اس لئے کہ ان دونوں نمازوں کی قضا نہیں۔ |
(۱۶۳) ہدایہ(۱۶۴) مجمع الانہرمیں ہے:لانہ لاتقضی فیتحقق العجز [4]اس لئے کہ نماز جنازہ کی قضا نہیں تو پانی سے عجز ثابت ہوا۔ (۱۶۵) حلیہ (۱۶۶) برجندی (۱۶۷) مراقی الفلاح(۱۶۸) فتاوٰی خیریہ میں ہے :
|
انھا تفوت بلاخلف (زادالبرجندی) بالنسبۃ الٰی غیرالولی[5]۔ |
نماز ہوچکے تو غیرولی کے لئے اس کا بدل نہیں۔ |
(۱۶۹) کافی میں دونوں لفظ جمع فرمائے کہ :
|
صلٰوۃ الجنازۃ والعیدتفوتان لا الی بدل لانھما لاتقضیان فیتحقق العجز [6]۔ |
نماز جنازہ وعید فوت ہوجائیں تو ان کا بدل نہیں کہ وُہ قضا نہیں کی جاتیں تو پانی سے عجز ثابت ہوا۔ |
[1] فتاوٰی غیاثیہ فصل فی التکفین مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۴۴
[2] حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب التیمم دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۲۹
[3] طحاوی شرح معانی الآثار باب ذکر الجنب والحائض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۴
[4] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ١/٤١
[5] شرح النقایہ للبرجندی باب التیمم نولکشور لکھنؤ ۱/۴۶،مراقی الفلاح علی ہامش الطحطاوی باب التیمم نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۳
[6] کافی شرح وافی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع