30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذا اذالم یحضرالسلطان امااذاحضرصلی الولی یعید السلطان[1]اھومثلہ فی الفاتح وفی الدرلوصلی الولی بحضرۃ السلطان مثلا اعاد السلطان [2]اھ وفی المعراج والحاوی عن المجتبٰی، للسلطان الاعادۃ اذاصلی الولی بحضرتہ٣[3]اھ وفی ط علی المراقی صلی ولی وارادالسلطان ان یصلی علیہ فلہ ذٰلك ،جوہرہ ،یعنی اذاکان حاضراوقت الصلٰوۃ ولم یصل مع الولی ولم یاذن لاتفاق کلمتھم ان الحق للسلطان عندعدم حضورہ نھر[4] اھ فظہر سقوط ماوقع لعبدالحلیم علی الدرر من قولہ ان السلطان اذالم یحضرفصلی من دونہ فحضرالسلطان یعیدھا ان شاء[5]اھ فلیتنبہ وباﷲ التوفیق۔ |
یہ اُس صورت میں ہے جب سلطان موجود نہ ہو، اگراس کی موجودگی میں ولی پڑھ لے تو وہ پھر پڑھ سکتاہے اھ-- اسی کے مثل فاتح شرح قدوری میں ہے-- درمختارمیں ہے: اگر ولی نے مثلا سلطان کی موجودگی میں پڑھ لیا تو سلطان دوبارہ پڑھ سکتاہے اھ معراج اورحاوی میں مجتبٰی کے حوالے سے ہے: سلطان کوحقِ اعادہ حاصل ہے اگر ولی اس کی موجودگی میں پڑھ لے اھ -- حاشیہ طحطاوی علی المراقی میں ہے:ولی نے نماز پڑھ لی اور سلطان چاہتاہے کہ وہ بھی پڑھے تو اسے اس کا حق حاصل ہے،جوہرہ-- یعنی جب سلطان وقتِ نماز موجود رہا ہو اور ولی کے ساتھ نہ پڑھا نہ ہی اجازت دی ہو اس لئے کہ عباراتِ عُلماء اس بارے میں متفق ہیں کہ سلطان کو غیر موجودگی کی حالت میں کوئی حق نہیں ،نہر اھ --اس سے واضح ہے کہ وہ کلام ساقط الاعتبار ہے جوعبدالحلیم رومی کے قلم سے حاشیہ دررمیں درج ہوا کہ سلطان کی غیر موجودگی میں اس سے کم درجہ والے نے جنازہ پڑھ لیا پھر سلطان آیا تو اگر وہ چاہے توپھر پڑھ سکتا ہے اھ۔ا س سے آگاہ رہنا چاہئے اور توفیق خدا ہی سے ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع