30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی النھایۃ والجوھرۃ ثم الہندیۃ والطحطاوی وفی العنایۃ والبرجندی عن النھایۃ وفی الفاتح شرح القدوری وفی ابی سعید علی الدررعن المجتبٰی وغیرہ۔ |
منقول ہے، اورنہایہ، جوہرہ پھر ہندیہ اورطحطاوی میں ہے اور عنایہ وبرجندی میں نہایہ کے حوالے سے ہے، اورفاتح شرح قدوری میں ہے اورحاشیہ ابو سعید علی الدرر میں مجتبی وغیرہ سے منقول ہے۔(ت) |
اور ایك جماعت علماء کے نزدیك اب بھی سلطان وغیرہ کسی کو اختیارِ اعادہ نہیں،معراج الدرایہ میں اسی کی تائید کی، ردالمحتار میں اسی کو ترجیح دی۔ اور یہی ظاہر اطلاق متون اور ظاہرًا من حیث الدلیل اقوٰی ہے تو حاصل یہ ٹھہرا کہ سلطان نے پڑھ لی تو و لی نہیں پڑھ سکتا ولی نے پڑھ لی تو سلطان نہیں پڑھ سکتا، غرض ہر طرح اعادہ وتکرار کا دروازہ بندفرماتے ہیں:(۱۳۶) غایۃ البیان شرح الہدایہ للعلامۃ الاتقانی میں ہے :
|
ھذا علٰی سبیل العموم حتی لا تجو ز الاعادۃ لالسلطان ولا لغیرہ[1]۔ |
یعنی ولی کے بعد کسی کو نماز کی اجازت نہ ہونے کا حکم عام ہے یہاں تك کہ پھر سلطان وغیرہ کسی کو اعادہ جائز نہیں۔ |
(١٣٧)صغیری میں ہے:
|
ان صلی ھوفلیس لغیرہ ان یصلی بعدہ من السلطان فمن دونہ[2]۔ |
ولی پڑھ لے تو پھر کسی کو پڑھنے کا حق نہیں سلطان ہو یا اور کوئی ۔ |
سراج وہاج شرح قدوری میں ہے :
|
من صلی الولی علیہ لم یجز ان یصلی احد بعدہ سلطانا کا ن او غیرہ [3] |
ولی کے بعد کسی کو نمازجائز نہیں سلطان ہو یا اس کا غیر ۔ |
(١٣٩و ١٤٠) ابوالسعود میں نافع وغیرہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا:
|
اطلق فی الغیر فعم السلطان فمفادہ عدم اعادۃ السلطان بعد صلٰوۃ الولی وبہ |
کنز میں امام ماتن نے غیرکو مطلق رکھا جو سلطان کو بھی شامل ،تواس کا مفادیہ ہے کہ ولی کے بعد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع