30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم یرض بہ ان تابعہ وصلی معہ لایعید لانہ صلی مرّۃ[1]۔ |
ہے۔ت)ایك شخص نے نماز پڑھائی اور ولی راضی نہ تھا لیکن شریك ہوگیا تو اب اعادہ نہ کرے گا کہ ایك بار پڑھ چکا۔ |
نوع ہشتم۸: یونہی اگر سلطان وغیرہ ذی حق کہ ولی سے مقدم ہیں پڑھ لیں یا خود نہ پڑھ لیں۔ان کے اذن سے کوئی پڑھ دے جب بھی ولی کو اختیار اعادہ نہیں۔
(١٠٢ تا١١٩) ٨٤ سے ١٠١ تك تمام کتبِ مذکورہ (١٢٠)فتح القدیر(١٢١)فتح المعین میں ہے:
|
امامن ذکرنا لفظھم اٰنفافبالفاظ متفقۃ و الباقون بمعانی متقاربۃ، وھذا لفظ الخانیۃ ان کان المصلی سلطانا اوالامام الاعظم اوالقاضی او والی مصراوامام حیہ لیس للولی ان یعید فی ظاھر الراویۃ [2] زادالذین سقنالفظہم لانھم اولی بالصلٰوۃ منہ[3] |
جن کی عبارت ابھی ہم نے ذکر کی وہ بہ الفاظ متفقہ اور باقی بمعانی متقاربہ بیان کرتے ہیں اور یہاں عبارت خانیہ کی ہے۔ت) اگر امیرالمومنین یا سلطانِ اسلام یاقاضی یا والیِ شہر یا امام مسجد محلہ نے نماز پڑھ لی تو ہمارے ائمہ سے ظاہر الروایۃ میں ولی کو بھی اعادہ کا اختیار نہیں کہ یہ لوگ اس نماز کے حق میں ولی سے مقدم ہیں۔ |
(١٢٢) غنیـہ(١٢٣) حلیہ (١٢٤) بحر (١٢٥) طحطاوی علٰی مراقی الفلاح سب کے باب تیمم میں ہے:
|
لوصلی من لہ حق التقدم کالسلطان ونحوہ لایکون لہ حق بالاعادۃ[4]۔ |
سلطان وغیرہ جو ولی پر مقدم ہیں ان کے پڑھ لینے کے بعد ولی کو حق اعادہ نہیں۔ |
کفایہ و مستخلص کی عبارت نوعِ دہم میں آتی ہے۔امام عتابی نے مثل عبارت مذکورہ خانیہ ذکر کیا اور ان کی گنتی میں جو ولی پر مقدم ہیں امام مسجد جامع کو بھی بڑھایا۔ اوردرایہ پھر نہر پھر درمختاراورجوامع الفقہ اور پھر شرنبلالیہ میں تصریح فرمائی کہ اما مِ جامع مسجد امامِ محلہ پر مقدم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع