30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶۰) شرح مسکین للکنز(۶۱) برجندی شرح نقایہ میں ہے:
|
ان صلی علیہ الولی لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ[1]۔ |
اگر جنازے پر ولی نماز پڑھ لے تو اب کسی کو پڑھنا جائز نہیں۔ |
غنیـہ کے لفظ یہ ہیں:
|
عدم جواز صلٰوۃ غیرالولی بعد ہ مذھبنا[2]۔ |
ولی کے بعد سب کو نماز ناجائز ہونا ہمارا مذہب ہے۔ |
(۶۲) مستصفی للامام النسفی(۶۳) شلبیہ علی الکنز میں ہے :
|
لولم یحضر السلطان وصلی الولی لیس لاحد الاعادۃ[3]۔ |
اگر سلطان حاضر نہ ہو اور ولی پڑھ لے اب کوئی اعادہ نہیں کرسکتا۔ |
نوعِ پنجم۵:کچھ و لی کی خصوصیت نہیں۔ حاکمِ اسلام یا امامِ مسجد جامع یا امام مسجد محلہ میت کے بھی، پھر دوسروں کو اجازت نہیں کہ یہ بھی صاحب حق ہیں۔(۶۴) امام فخر الدین عثمان نے شرح کنز میں بعد مسئلہ ولی فرمایا :
|
وکذا بعد امام الحی وبعد کل من یتقدم علی الولی[4]۔ |
یعنی یونہی اگر مسجد محلہ میّت کا امام یا سلطان وغیرہ حکامِ اسلام نمازِ جنازہ پڑھ لیں تو پھر اوروں کو نماز کی اجازت نہیں۔ |
(۶۵) فاتح شرح قدوری (۶۶) ذخیرۃ العقبی علٰی صدر الشریعۃ (۶۷)حواشی سیّد حموی میں ہے:
|
تخصیص الولی لیس بقید لانہ لوصلی |
کچھ ولی کی خصوصیت نہیں بلکہ سلطان وغیرہ جو |
[1] المختصر للقدوری باب الجنائز مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور بھارت ص ۴۵،الہدایہ فصل فی الصلوٰۃ علی المیت المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/۱۶۰،شرح النقایہ للبرجندی فصل فی الصلوٰۃ الجنائز منشی نولکشور لکھنؤ ۱/۱۸۱
[2] غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۸۵
[3] شلبی علی الکنز علٰی ھامش تبیین الحقائق باب الجنائز مطبعہ کبرٰی امیریہ مصر ۱/۲۳۸
[4] تبیین الحقائق باب الجنائز مطبعہ کبرٰی امیریہ مصر ۱/۲۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع