30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نوع دوم۲: دوبارہ پڑھیں تو نفل ہوگی اور یہ نماز بطورنفل جائز نہیں۔کنز الدقائق للامام الزیلعی(۱۴) جوہرۂ نیّرہ شرح مختصر القدوری(۱۵) درر شرح غرر (۱۶) بحرالرائق شرح الکنز للعلامہ زین(۱۷)مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر(۱۸) مستخلص الحقائق شرح کنز(۱۹) کبیری علی المنیہ میں ہے:
|
الفرض یتادی بالاول والتنفل بھا غیرمشروع (زادفی التبیین) ولہذا لایصلی علیہ من صلی علیہ مرۃ[1]۔ |
فرض تو پہلی نماز سے ادا ہوجاتاہے اور یہ نماز نفل کے طور پر جائز نہیں اس لئے جو ایك بار پڑھ چکا دوبارہ نہ پڑھے۔ |
کافی کے الفاظ یہ ہیں:
|
حق المیّت یتادی بالفریق الاول وسقط الفرض بالصلٰوۃ الاولٰی فلو فعلہ الفریق الثانی لکان نفلا وذاغیرمشروع کمن صلی علیہ مرّۃ[2]۔ |
میّت کا حق پہلے فریق نے اداکردیا اور فرض کفایہ نماز اول سے ساقط ہوگیا، اب اور لوگ پڑھیں تو نماز نفل ہوگی اوریہ جائز نہیں جیسے ایك بار پڑھ چکنے والے کو دوبارہ اجازت نہیں۔ |
(۲۰) شرح تجرید کرمانی(۲۱) فتاوٰی ہندیہ(۲۲) مراقی الفلاح علامہ شرنبلالی میں ہے: التنفل بصلٰوۃ الجنازۃ غیرمشروع [3]نماز جنازہ بطور نفل جائز نہیں۔(۲۳) امام محمد محمد محمد بن امیرالحاج حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
|
المذھب عنداصحابنا ان التنفل بھا غیر مشروع[4]۔ |
ہمارے اماموں کا مذہب یہ ہے کہ نماز جنازہ نفلًا روا نہیں۔ |
(۲۴) بحرالعلوم ملك العلماء رسائل الارکان میں فرماتے ہیں :
|
لوصلوا لزم التنفل بصلٰوۃ الجنازۃ ذاغیرجائز [5]۔ |
پھر پڑھیں تو نماز جنازہ بطور نفل پڑھنی لازم آئیگی اور یہ ناجائز ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع