30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب فتاوی الشافعی وحدہ ومابہ قال وقلنا ضدّہ
وجائز فی فعلھا التکرار وفی القبور عــــہ یدخل الاوتار[1]
یعنی نماز جنازہ کی تکرار جائز ہونا صرف امام شافعی کا قول ہے ہمارے نزدیك جائز نہیں۔(۴) ایضاح امام ابوالفضل کرمانی (٥) فتاوٰی عالمگیریہ (٦) جامع الرموز میں ہے:لا یصلی علی میّت الامرّۃ واحدۃ[2]کسی میّت پر ایك بار سے زیادہ نماز نہ پڑھی جائے۔(٧) علامہ سیّد احمد طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں : سقوط فرضھا بواحد فلواعادوا تکررت ولم تشرع مکررۃ [3]نماز جنازہ کا فرض ایك کے پڑھنے سے ساقط ہوجاتا ہے اب اگر پڑھیں تو مکرر ہوجائے گی اور وہ مکرر مشروع نہیں۔بحرالرائق و شامل بیہقی وغیرہما کی عبارات نوع سوم میں آتی ہیں اور حلیہ کی چہارم اورعنایہ کی دہم میں۔(٨) مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی(٩)نہایہ شرح ہدایہ (١٠) منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں ہے:لاتعادالصّلٰوۃ علی المیّت الا ان یکون الولی ھوالذی حضرفان الحق لہ ولیس لغیرہ ولایۃ اسقاط حقہ۔[4]کسی میت پر دو دفعہ نماز نہ ہو ،ہاں اگر ولی آئے تو حق اس کا ہے اور دوسرا اس کا حق ساقط نہیں کرسکتا(۱۱) ہدایہ (۱۲) کافی شرح وافی للامام الاجل ابی البرکات النسفی(۱۳)تبیین الحقائق شرح
|
عــــہ: لایدخل القبر عندہ لوضع المیت الا الوتر و عندنا الوتر والشفع سواء۱۲ منہ(م) |
امام شافعی کے نزدیك میت کو اتارنے کےلئے قبر میں جانے والوں کی تعداد طاق ہی ہوگی اور ہمارے نزدیك طاق اور جفت یکساں ہیں۱۲منہ(ت) |
[1] منظومۂ مبارکہ نجم الدین عمر بن محمد نسفی
[2] جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱/۲۸۵،فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الصّلٰوۃ علی المیت نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۶۳
[3] حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز دارالمعرفۃ بیروت ۱/۳۷۱
[4] منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق فصل فی السلطان احق بصلوٰتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۸۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع