30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بن زیاد عن عطاء عن ابن عباس قال اذاخفت ان تفوتك الجنازۃ وانت علٰی غیروضوء فتیمم وصل[1]۔ |
روایت کی انہوں نےعطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے ، انہوں نے فرمایا۔ت)جب تجھے نمازِ جنازہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہواور وضو نہیں تو تیمم کرکے پڑھ لے۔ |
ابن عدی کی حدیث یوں ہے :
|
عن معافی بن عمران عن مغیرۃ بن زیاد عن عطاء عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال اذا فجأتك الجنازۃ وانت علی غیر وضوء فتیمم[2]۔قال ابن عدی ھذا مرفوع غیر محفوظ والحدیث موقوف علی ابن عباس[3]۔ |
(معافی بن عمران، مغیرہ بن زیادسے وہ عطاءسے،وہ ابن عباس سے، وہ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے راوی ہیں۔ت) یعنی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:"جب ناگہانی تیرے سامنے جنازہ آجائے اور تجھے وضو نہ ہو تو تیمم کرلے"،(ابن عدی نے کہا یہ مرفوع غیر محفوظ ہے اور حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف ہے۔ت) |
دارقطنی و بیہقی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی :
|
انہ اتی الجنازۃ وھوعلٰی غیر وضوء فتیمم ثم صلی علیہا[4]۔ |
یعنی ان کے پاس ایك جنازہ آیااُس وقت وضوء نہ تھا تیمم کرکے نماز میں شریك ہوگئے۔ |
اسی کے مثل ابن ابی شیبہ وامام طحاوی نے باسانیدکثیرہ امام حسن بصری وامام ابراہیم نخعی وابوبکر نے عکرمہ تلمیذ ابن عباس اور طحاوی نے عطاء بن ابی رباح وعامر و ابن شہاب زہری وحکم سات ائمہ تابعین سے روایت کیا اگر نمازِ جنازہ کی تکرار روا ہوتی تو فوت کے کیا معنی تھے؟ اور اُس کے لئے تندرست کو پانی موجود ہوتے ہوئے تیمم کیونکر جائز ہوتا؟حالانکہ رب جل وعلا فرماتا ہے: فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا [5]
[1] المصنف لابن ابی شیبہ فی الرجل یخاف ان تفوتہ الصلٰوۃ علی الجنازۃ ادارۃ القرآن کراچی ٣/۳۰۵
[2] الکامل لابن عدی ترجمہ یمان بن سعید المصیصی دارالفکر بیروت ۷/۲۶۴۰
[3] الکامل لابن عدی ترجمہ یمان بن سعید المصیصی دارالفکر بیروت ٧۷/٢٦٤۲۶۴۰
[4] سنن دارقطنی باب الوضوء والتیمم من آنیۃ المشرکین نشر السنۃ ملتان ۱/۲۰۲
[5] القرآن ۴/۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع