30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خامسًا شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ میں لکھتے ہیں:
|
در بعض روایات آمدہ کہ روزِ دیگر ابوبکر صدیق و عمر فاروق ودیگر اصاحب بخانۂ علی مرتضٰی بجہت تعزیت آمدند شکایت کردند کہ چرا ماراخبر نہ کردی تاشرفِ نماز وحضوری دریافتم۔علی مرتضٰی گفت فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا وصیت کردہ بود کہ چوں ازدنیا بروم مرابہ شب دفن کنی تاچشم نامحرم برجنازہ من نیفتد،پس بموجب وصیت وے عمل کردم۔این ست روایت مشہور[1]۔
|
بعض روایات میں آیا ہے کہ دوسرے دن حضرات ابوبکر صدیق و عمرفاروق ودیگر صحابہ حضرت علی مرتضٰی کے گھر تعزیت کے لئے آئے اور شکایت فرمائی کہ ہمیں خبر کیوں نہ دی کہ ہم نماز اور حاضری کا شرف حاصل کرتے علی مرتضٰی نے فرمایا:فاطمہ رضی اﷲتعالٰی عنہا نے وصیت کی تھی کہ جب میں دنیا سے جاؤں تو مجھے رات میں دفن کریں تاکہ میرے جنازے پر نامحرم کی نظر نہ پڑے، تو میں نے ان کی وصیت کے مطابق عمل کیا۔یہ ہے روایت ِمشہور۔(ت) |
اقول: ان روایات سے بھی روشن کہ صدیق وفاروق و عبداﷲ بن سلام ودیگر اصحاب کبار رضی اﷲتعالٰی عنہم دوبارہ نماز ِجنازہ ناجائز جانتے ورنہ فوت ہونا کیا معنی، اور شکایت وافسوس کا کیا محل۔
سادسًا ابوبکربن ابی شیبہ اپنی مصنف اور امام اجل ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے موقوفًا اور ابن عدی کامل میں بروایت ابن عباس حضور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے راوی:
|
وھذاحدیث الطحاوی بطریق عمربن ایّوب الموصلی عن مغیرہ بن زیاد عن عطاء بن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما فی الرجل تفجاء الجنازۃ وھوعلٰی غیروضوء قال یتیمم ویصلی علیھا[2]۔ |
(اور یہ امام طحاوی کی حدیث ہے جس کی سند یہ ہے عمر بن ایوب موصلی ، مغیرہ بن زیاد، عطاء، ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے۔ت)یعنی جس شخص کے پاس ناگاہ جنازہ آجائے اور اُسے وضو نہ ہو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔ |
ابن ابی شیبہ کی روایت یہ ہے:
|
حدثنا عمر بن ایوب الموصلی عن مغیرۃ |
(ہم سے عمر بن ایوب موصلی نے مغیرہ بن زیاد سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع