30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ حدیث سے اس کو ہم پیش کر آئے۔ت) اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے: مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ؕکون ہے جو اﷲ کے یہاں شفاعت کرے مگراس کے اذن سے۔ )نسخہ میں الف مذکور نہیں(اور صورتِ مذکورہ کااذن کہیں ثابت ہو یا سید المرسلین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے اذن قولی یا فعلی یا تقریری سے، ومن ادعی فعلیہ البیان(جو دعوٰی کرے دلیل اس کے ذمّہ۔ت) اجرم ان مجتہد صاحب نے بے ثبوت اذنِ الٰہی بارگاہِ عزّت میں شفاعت پر جرأت و بیباکی اور اپنے ساتھ اور مسلمان کو بھی اس بلا میں ڈالا اور وَمَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَاؕ[1] (جو کوئی بری سفارش کرے اسے بھی اس کا حصّہ ملے ۔ت) سے حصہ لیادیا،
|
وھذادلیل ان استقصی ادی الی اثبات المذھب تادیۃ صریحۃ ونفی قول کل من خالف فعلیك بتطلیب الصریحۃ۔ |
یہ ایسی دلیل ہے کہ اگر اسکی تہ تك جائیں تو صراحۃً اثبات مذہب تك پہنچائے اور ہر مخالف کے قول کی تردید کردے، تو صریح کی تلاش تمہارے ذمّے ہے۔(ت) |
ثانیًامسندامام احمدو سنن ابی داؤد میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے مروی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
لاتصلواصلٰوۃ فی یوم مرتین[2]۔ |
کوئی نماز ایك دن میں دو بار نہ پڑھو |
نیز حدیث میں ہے:
|
لایصلی بعد صلاۃ مثلھا[3]۔رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ عن امیرالمؤمنین عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ من قولہ وظاہر کلام الامام محمد انہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قال الامام ابن الھمام ومحمد اعلم بذلك منّا۔ |
کسی نماز کے بعد اس کے مثل نہ پڑھی جائے۔اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے امیرالمومنین عمر رضی اﷲ عنہ سے ان کے قول کی حیثیت سے نقل کیا، اورامام محمد کے ظاہر کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔امام ابن الہمام فرماتے ہیں:امام محمد ہم سے زیادہ اس کا علم رکھتے ہیں(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع