30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الصلٰوۃ علیہ منہ الیہ والصلٰوۃ علیہ صلی اﷲعلیہ وسلم بعد موتہ من ھذاالقبیل[1]۔نقلہ فی شرح الموطا۔ |
کہ محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایسے درود بھیجے کہ بلاتوسط دیگرے اُس شخص کی طرف سے محبوب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے اللہم صل وسلم وبارك علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وامتہ اجمعین۔ اور محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم پر بعد وصال شریف صلٰوۃ بھی اسی قبیل سے ہے۔ یعنی تواُس کابھی بے وساطت احدے ہونا چاہئے۔اسے شرح موطا میں نقل کیا۔ |
بالجملہ یہ محل، اعلٰی مواطن خصوص سے ہے ولاجرم علامہ سید ابوالسعود محمدالزہری نے حواشی کنز میں فرمایا:
|
تکرار الصلاۃ علی النبی عیلہ الصّلوۃ والسلام، کان مخصوصابہ[2]۔ |
نبی اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم پر تکرار نماز ان ہی کے ساتھ مخصوص تھی۔(ت) |
سابعاپھر تنبیہ کی جاتی ہے کہ مجتہد صاحب اپنے مذہب کی فکر کریں۔وہ واقعہ جوان کے مسلك مذکور کارَد ہو مثلًا مہینہ بھر بعد نماز پڑھناکما علٰی ام سعدجیسے ام سعد پر۔ت)یا مہینوں برسوں پیچھے کما علٰی اھل البقیع(جیسے بقیع والوں پر۔ت)یا آٹھ برس گزرے کماعلٰی اھل احد(جیسے احد والوں پر۔ت) علاوہ اور جوابوں کے خوداُن کا رَد ہوگا۔ نہ اُن کی سند، کہ یہاں اُن سے مطالبہ اپناادعا ثابت کرنے کا ہے وانی لہ ذٰلك واﷲ الھادی الٰی اَقوم المسالک(اور ان سے یہ کہاں ہوسکے گا؟ اور خداہی راست ترین راہ کی ہدایت فرمانے والا ہے۔ت)
الحمدﷲ! ان چند جمل نفیسہ، مجملہ مختصرہ، نے صرف مجتہدینِ زمانہ ہی کی آنکھ کان نہ کھولے بلکہ بحمداﷲتعالٰی بنظرِ انصاف دیکھئے تو مسئلہ کا فیصلہ بحث کا تصفیہ کاملہ کر دیا۔وﷲالحمداب بتوفیق اﷲ تعالٰی بعضے نکات وتمسّکات کے اس مسئلہ میں فیض قدیر سے قلبِ فقیر پر فائز ہوئے ذکر کرکے کلام ختم کروں جو بعونہٖ تعالٰی اصل مسئلہ اعنی ممانعت تکرار جنازہ میں تائید مذہب حنفیت کریں یا مسلك طریقہ مجتہد جدید کا ابطال کلی خواہ ابطال کلیت۔
فاقول: وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الیذری التحقیق(تو میں کہتا ہوں، اور توفیق خدا ہی سے ہے اور اسی کی مدد سے بلندی تحقیق تك رسائی ہے۔ت)
اوّلا ًنماز جنازہ اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں میّت کی شفاعت ہے کما قدمنا علی الحدیث(جیسا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع