30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ایك تو مرسل ، اور مرسل ان صاحبوں کے نزدیك مہمل، اور دوسرے فی نفسہٖ مشکل۔ شہدائے اُحد رضی اﷲتعالٰی عنہم ٧٠ ستر تھے جب دس دس پر نماز ہوئی تو سات نمازیں ہوں گی ستّر کیونکر !
ثمّ اقول: وباﷲ التوفیق بعدتسلیم ِ صحتِ حدیث غایت درجہ جو ثابت ہوگا وہ اس قدر کہ شہداء پر نعشیں بدل کر نمازیں ہوا کیں اور نعش مبارك سیدالشہداء رضی اﷲتعالٰی عنہم بدستور رکھی رہی، مجرد نہ اٹھایاجانا مستلزم اعادہ صلٰوۃ نہیں کہ یہ امر نیت حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے علم پر موقوف اور نیت غیبت ہے اور غیبت پر اطلاع نہیں، ممکن کہ اُن کی نعش ہربار کے برکات نازلہ میں شمول کے لئے رکھی گئی ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی جگہ رویت کا مبلغ صرف صورتِ ظاہرہ تك ہے، نہ معنی باطن تک، اور مطلب مستدل کا ثبوت اُسی معنی باطن پر موقوف، اور اس کی دلیل نہیں، تو استدلال راسًا ساقط۔ ہاں اگرحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم خود اپنی زبان مبارك سے ایسے بیان فرماتے تو احتجاج صحیح تھا واذالیس فلیس اورجب وُہ نہیں تو یہ بھی نہیں۔ت)
سادسا: ذرا بھی یہ ملحوظ رہے کہ وہ محل، متحمل اختصاص نہ ہو خصوصًا جہاں خصوص پر قرینہ قریبہ قائم ہو، جیسےحدیثِ خادمہ مسجد رضی اﷲتعالٰی عنہماوغیرہاجن کی قبر پرحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر وجہ خودارشاد فرمائی :
|
ان ھذہ القبور مملوہ علٰی اھلھا ظلمۃ وانی انورھا بصلٰوتی علیہم [1]صلی اﷲعلیہ وسلم قدر نورہ وجمالہ وجودہ ونوالہ علیہ وعلی اٰلہ اجمعین رواہ مسلم وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ واصل احدیث متفق علیہ۔ |
بیشك یہ قبریں اپنے ساکنوں پر اندھیرے سے بھری ہیں اور بیشك میں اپنی نماز سے انہیں روشن کردیتا ہوں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ۔اﷲ تعالٰی ان پردرود وسلام نازل فرمائے ان کے نو روجمال اور جودونوال کے اندازے سے اوران کی آل واصحاب سب پر۔یہ حدیث مسلم اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی۔ او راصل حدیث بخاری ومسلم کی متفق علیہ ہے۔(ت) |
زید بن ثابت ویزید بن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیثوں میں گزرا کہ بے میری اطلاع کے دفن نہ کردیا کرو کہ میری نماز اس کے حق میں ر حمت ہے۔
اقول: خودبنظر ایمانی گواہ ہے کہ کروڑوں صلحاء واتقیاء کسی جنازہ کی نماز پڑھیں مگر وہ بات کہاں جوحضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے پڑھنے میں ہے، وُہ برکات وہ درجات ومثوبات دوسرے کی نماز میں حاصل نہیں ہوسکتیں، اور حضور پُرنورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بہ نص قطعی قرآن ِ عظیم عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾[2]ہیں کہ ہر مسلمان کی کلفت اُن پر گراں، ایك ایك امتی کی بھلائی پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع