30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحق لہ ولیس لغیرہ ولایۃ اسقاط وھوتاویل فعل رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فان الحق لہ قال اﷲ تعالٰی النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم وھکذا تاویل فعل الصحابۃ رضی اﷲتعالٰی عنہم فان ابابکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کان مشغولا بتسویۃ الامور وتسکین الفتنۃ فکانوایصلون علیہ قبل حضورہ وکان الحق لہ لانہ ھوالخلیفۃ فلمافرغ صلی علیہ ثم لم یصل احد بعدہ علیہ [1]اھ اقول: وبما قررناظھرلك سقوط ماوقع ھٰھنافی المنحۃ فافھم وتثبت وﷲ المنۃ۔ |
ساقط کرنے کا اختیار نہیں---یہی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے فعل کی تاویل ہے کیونکہ حق سرکار کا تھا، اﷲتعالٰی فرماتا ہے: نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالك ہیں-- اور اسی طرح صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کے فعل کی تاویل ہے اس لئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالٰی عنہ معاملات درست کرنے اور فتنہ فرو کرنے میں لگے ہوئے تھے توان کی آمد سے پہلے لوگ صلٰوۃ پڑھتے جاتے اور حق صدیق کاتھا کیونکہ خلیفہ وہی ہوئے تو جب فارغ ہوئے سرکار کی نمازِ جنازہ پڑھی پھر کسی نے حضور کی نماز نہ پڑھی۔ اقول: ہماری تقریر سے وہ اعتراض ساقط ہوگیا جو یہاں منحۃ الخالق میں ہے۔ تو اسے سمجھو اورثابت قدم رہو۔اوراحسان خداہی کا ہے (ت) |
رابعا: ًثبوت ہو کہ دوبارہ نماز پڑھنے والے خودو ہی ہیں جواول پڑھ چکے تھے کہ نئے لوگوں کا پڑھنا اگر چہ ولی احق کے بعد خلافیہ حنفیہ وشافعیہ ہو ان مجتہد صاحب کے مذہب وفتوٰی کا مصح نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے تو پڑھ چکنے والوں کو دوبارہ پڑھوائی۔
خامسا:ہرتقدیر پر ضرور ہے کہ حدیث ہو صحیح فقہی ہو۔ مجرد وصحت حدیثی اثبات حکم کے لئے بس نہیں ہوتی، مجتہد صاحب اگر علم رکھتے ہوں گے صحت حدیثی و صحت فقہی کا فرق جانتے ہوں گے، ورنہ فقیر کا رسالہ الفضل الموھبی فی معنی اذااصح الحدیث فھومذھبی ملقب بہ لقب تاریخی"اعزالنکات بجواب سوال ارکات"جس کا سوال مقام ارکات سے آیا اس کے جواب میں لکھا گیا تھاملاحظہ فرمائیں، نہ مثل حدیث تعددالصلٰوۃ علی سیّدنا حمزہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کہ:
اوّلا:حدیث صحیح بخاری شریف کے صریح خلاف جس میں حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری شاہد ومشاہد مشہد اُحد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع