30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ:اقول وباﷲ التوفیق ولایتِ میّت یا بذریعہ وراثت مال ہے ولہذا جو وراثت میں مقدم، ولایت میں اقدم یا بطور نیابت ولی احق ووالی مطلق صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے یعنی خلافتِ امام وسلطنت ِ اسلام بمعنی اول، حضور اقدس صلی تعالٰی علیہ وسلم کو کوئی ولی نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ ولم فرماتے ہیں:
|
لانورث ماترکناہ صدقۃ[1]۔رواہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی بکر صدیق وابوداؤد عن ام المؤمنین ونحوہ عن الزبیر واحمد والشیخان وابوداؤد عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔ |
ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا ہم جو چھوڑ جائیں گے صدقہ ہے، اسے امام احمد، بخاری، مسلم اورابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ سے بھی روایت کیا رضی اﷲتعالٰی عنہم۔
|
حدیث اُمّ المؤمنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا میں ہے:
|
فاذامت فھوالٰی ولی الامر من بعدی[2]۔ |
جب میں انتقال فرماجاؤں تو میرے ترکے کا اختیار اُسے ہے جو میرے بعد ولیِ امروخلیفہ ہوگا۔ |
رہی ولایت ِ خلافت وہ ہنوز کسی کو نہ تھی، یہاں تك صدیق اکبر رضی اﷲتعالٰی عنہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئی،اگر یہی مانئے کہ جنازہ اقدس پر نماز ہوئی تو غیروالی احق سے، بے اذن ولی احق تھی، ہاں یہ ثابت کیا جائے کہ صدیق اکبرنے بعد خلافت نماز ادا کی اورپھر اعادہ کی گئی، مگر حاشااس کا ثبوت کہاں-- الحمداﷲ تعالٰی اس تقریر کے بعد فقیرغفراﷲتعالٰی نے مبسوط امام شمس ائمہ سرخسی سے پایا کہ بعینہٖ اسی جواب کی طرف اشارہ فرمایا۔منحۃ الخالق میں مبسوط سے ہے۔
|
لاتعاداالصلٰوۃ علی المیت الاان یکون الولی ھو الذی حضر،فان |
نمازِ جنازہ دوبارہ نہیں مگر یہ کہ ولی ہی بعد میں آیا تو اسے حق اور دوسرے کو اس کا حق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع