30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول: بنظرِ ارشادمذکور کہ ہمیں خبر کردینا، اوراطلاع واقع نہ ہوئی،شرع سے اس کیلئے ایك اور نظیر مل گئی، مسجدِ محلہ میں اہل محلہ جب جماعتِ صحیحہ غیرمکروہہ بالاعلانِ اذان اداکرچکیں تو دوسروں کو باعادہ اذان وہاں جماعت کی اجازت نہیں، اور اگر پہلی جماعت بے اذان یا باخفائے اذان واقع ہوئی توانہیں روا ہے کہ اذان بروجہ مسنون دے کر محراب میں جماعت قائم کریں کہ جب وہ جماعت برخلاف حکم سنّت تھی تو اب یہ اعادہ جماعت نہیں بلکہ یہی جماعتِ اولٰی ہے کما بیّناہ فی رسلتنا القطوف الدانیۃ لمن حسن الجماعۃ الثانیۃ(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ"القطوف الدانیۃ لمن احسن الجماعۃ الثانیۃ"میں بیان کیا ہے۔ت) یہی وجہ ہے ان تقریراتِ نفسیہ سے بحمداﷲ تعالٰی حدیثِ سکینہ اور اس کی نظراء کی بحث کا تصفیہ تمام ہوگیا اور نہ صرف ان مجتہد صاحب کے اختراع بلکہ تمسك شافعیہ کا بھی جواب تمام،
|
وبہ ظہر، ان لوثبت ان الذین صلوامن قبل ان کانواھم المصطفین خلف المصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لم یکن فیہ ماینکر بہ علٰی شیئ من مذھبناولاحاجۃ بناالی الجواب الذی اورد العلامۃ القسطلانی فی ارشاد الساری وارتضاہ المولی علی القاری فی المرقاۃ وذکرہ الفاضل الزرقانی فی شرح الموطا ان صلٰوۃ غیرہ صلی اﷲ علیہ وسلم وقعت تبعالہ صلی اﷲعلیہ وسلم وبہ انحلت بحمداﷲتعالٰی عقدۃ استصعبھا المحقق حیث اطلق فی الفتح واﷲ سبحانہ ولی التوفیق والفتح والحمد ﷲ ربّ العٰلمین۔ |
اور اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر یہ بھی ثابت ہوجائے کہ جولوگ جنازہ پہلے اداکرچکے تھے وہی بعد کوسرکار مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ تھے تو اس میں کوئی ایسی بات نہ ہوگی جو ہمارے مذہب پر گرد اعتراض بٹھاسکے---اور ہمیں اس جواب کی ضرورت نہیں جوعلامہ قسطلانی نے ارشاد الساری میں ذکر کیا اور مولانا علی قاری نے مرقاۃ میں اسے پسند کیا اورفاضل زرقانی نے شر ح موطاء میں اسے بیان کیا کہ"دوسرے حضرات کی نمازحضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی تبیعت میں تھی"--اور اسی سے بحمد اﷲتعالٰی ایك اور عقدہ حل ہوگیا جسے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں دشوار قرار دیا ہے۔اور خدائے پاك ہی توفیق اور کشف کا مالك ہے، اور ساری خوبیاں اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا مالك ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع