30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما فعل فی الغال وکان یفعل اولافی من مات مدیونًاولم یترك وفاء۔ |
جیسا کہ مالِ غنیمت کے ا ندر خیانت کرنے والے کے ساتھ کیا پہلے اس مدیون کے ساتھ ایسا کرتے تھے جوادائے عین کےلئے کچھ چھوڑ نہ جائے(ت) |
اوراگر بے اطلاعِ حضور پُر نور لوگ خود پڑھ لیں، تووہ شفاعت بے اذن کا مالك ہے کافی ومسقط فرض نہیں۔مرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے:
|
رأیت السیوطی ذکرفی انموذج اللبیب، انہ ذکربعض الحنفیۃ ان فی عہدہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لایسقط فرض الجنازۃ الابصلاتہ فیؤل الٰی ان صلاۃ الجنازۃ فی حقہ فرض عین وفی حق غیرہ فرض کفایۃ واﷲ ولی الہدایۃ[1]۔ اقول: لایؤل الیہ وکیف وقدثبت ماذکرنامن امرالغال والمدیون ولم یقل للقائل، ان فرض الجنازۃ کان لایسقط عنہ الابصلاتہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ولو ارادھذالکان تقییدہ بعدہ صلی اﷲ علیہ وسلم عبثا مستغنی عنہ انما المعنی ماقررناان الفرض لم یکن یسقط عن احد فی عھدہ مالم یصل اویأ ذن، لکونہ ھو مالك الشفاعۃ صلی اﷲعلیہ وسلم۔ |
میں نے دیکھا کہ امام سیوطی نے انموذج اللبیب میں لکھا ہے کہ بعض حنفیہ نے بیان کیا کہ حضور اقدس علیہ الصّلٰوۃ والسلام کے عہد پاك میں فرضِ جنازہ حضور کی نماز کے بغیر ساقط نہ ہوتا--اورخدا ہی ہدایت کا مالك ہے(ت) اقول: یہ مآل نہ ہوگا، یہ کیسے ہوسکتاہے جب وہ جو ہم نے خائن اور مدیون کا معاملہ ذکر کیا وُہ ثابت ہے--اُس قائل نے یہ نہیں کہا کہ حضور سے بغیر نمازِ حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے فرض ساقط نہ ہوتا، اگر اس کا مقصد یہ ہوتاتوحضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عہدِ مبارك کی قید لگانے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی، مقصود وہ ہے جو ہم نے بیان کیا کہ سرکار کے عہد مبارك میں کسی سے یہ فرض ساقط نہ ہوتا جب تك حضور خود نہ پڑھیں یادوسرے کو اذن نہ دیں اس لئے کہ شفاعت کے مالك وہی ہیں، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع